Kya Parhne Ka Koi Faida Nahi?

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

پاکستان میں آج یہ سوال صرف ایک جملہ نہیں بلکہ کروڑوں نوجوانوں کی چیخ بن چکا ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو برسوں کتابوں کے ساتھ جاگتا رہا، جس نے والدین کی اُمیدوں کو اپنے کندھوں پر اُٹھایا، جس نے غربت میں فیسیں ادا کیں، جس نے یونیورسٹی کی ڈگری کو مستقبل کی ضمانت سمجھا، آج وہی نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے در بدر پھر رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی طالب علم یہ کہتا ہے کہ پڑھنے کا کیا فائدہ ہے تو اس کے پیچھے صرف مایوسی نہیں بلکہ ایک تلخ سماجی حقیقت موجود ہے۔

پاکستان میں تعلیم کو حقیقی معنوں میں قومی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ حکومتی جماعتوں نے تعلیم کے نام پر نعرے تو لگائے لیکن عملی طور پر تعلیم کو عام آدمی سے دور کیا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ سرکاری سکول اور کالج جو کبھی غریب طبقے کی آخری اُمید تھے انہیں بتدریج ختم کیا جا رہا ہے یا ان کی حالت اتنی خراب کر دی گئی ہے کہ والدین مجبوراً مہنگے نجی اداروں کا رخ کر رہے ہیں۔ موجود حکومت تعلیم کو خدمت نہیں بلکہ کاروبار بنا چکی ہیں۔

تعلیمی اداروں کی نجکاری کے پیچھے صرف تعلیمی اصلاحات نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی مفادات بھی کار فرما ہیں۔ جب تعلیم پر ریاست خرچ کم کرتی ہے تو بجٹ کا بوجھ کم ہوتا ہے۔ حکومتیں عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے اپنے اخراجات کم دکھاتی ہیں۔ دوسری طرف نجی تعلیمی مافیا اربوں روپے کماتا ہے۔ مہنگی یونیورسٹیاں اور نجی سکولز صرف امیر طبقے کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں جبکہ........

© Daily Urdu (Blogs)