Kya Hamein Bandar Ban Jana Chahiye? |
کیا ہمیں بندر بن جانا چاہیے؟
انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا۔ اسے عقل دی گئی، شعور دیا گیا، تمیز دی گئی اور خیر و شر میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی۔ اتنی صفات کے برعکس جب یہی انسان اپنی عقل کو ظلم کے لیے استعمال کرے، اپنے شعور کو فریب کا ہتھیار بنا لے اور اپنی طاقت کو کمزور کے گلے کا پھندا بنا دے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی وہ اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق رہ جاتا ہے؟ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید بندر بن جانا انسان بنے رہنے سے بہتر ہے کیونکہ بندر کم از کم اپنی فطرت کے خلاف نہیں جاتا جبکہ انسان اپنی فطرت سے بھی غداری کر گزرتا ہے۔
قرآن مجید میں ایک واقعہ آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی۔ ہفتے کے دن مچھلی کا شکار منع تھا، اس حکم کو انہوں نے حیلے بہانے سے توڑا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان پر عذاب آیا اور وہ بندر بنا دیے گئے۔ یہ واقعہ صرف جسمانی تبدیلی کی داستان نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ جب انسان حرص اور لالچ میں اندھا ہو جائے تو اس کی صورت چاہے انسانی رہے مگر سیرت بندر سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔
آج کا انسان بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج چہرے نہیں بدلے، کردار بدل گئے ہیں، دل پتھر کے ہو گئے ہیں اور آنکھوں میں صرف مفاد کا دُھواں بھرا ہے۔ انسان اب انسان کو نہیں دیکھتا بلکہ فائدہ دیکھتا ہے۔ رشتہ ہو یا دوستی ہر چیز ترازو میں تولی جاتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ
مطلب نکل گیا تو پہچانتے نہیں
آج کے معاشرے کی یہ سب سے بڑی بیماری ہے۔
لالچ وہ آگ ہے جو پہلے دل کو جلاتی ہے پھر پورے معاشرے کو راکھ کر دیتی ہے۔ ایک شخص جب اپنی دولت بڑھانے کے لیے دوسروں کا حق کھاتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں........