Falkiyat Ki Tareekh (6)

تقریباً 3000 قبل مسیح تک میسوپوٹیمیا کی مختلف شہری ریاستیں مضبوط ہو چکی تھیں۔ سومری تہذیب اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی تھی اور تحریر کا استعمال روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا تھا۔ ان حالات میں فلکیات نے بھی ایک نئے مرحلے میں قدم رکھا۔ اب آسمان کو صرف دیکھا نہیں جاتا تھا بلکہ اس کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات کو باقاعدہ محفوظ بھی کیا جانے لگا تھا۔

میسوپوٹیمیا کے شہروں میں بلند و بالا عبادت گاہیں تعمیر کی جاتی تھیں جنہیں آج زقورات (Ziggurats) کہا جاتا ہے۔ یہ کئی منزلہ عمارتیں دور سے نمایاں دکھائی دیتی تھیں اور مذہبی سرگرمیوں کا مرکز تھیں۔ ایک عام تصور یہ ہے کہ زقورات بنیادی طور پر فلکی رصدگاہیں تھیں، لیکن موجودہ تحقیق اس رائے کی مکمل تائید نہیں کرتی۔ آثارِ قدیمہ کے مطابق ان کا بنیادی مقصد مذہبی رسومات اور انتظامی امور تھا۔ البتہ ان کی بلندی کی وجہ سے ان پر کھڑے ہو کر افق کا بہتر مشاہدہ ضرور کیا جا سکتا تھا اور........

© Daily Urdu (Blogs)