Ma Baad Tabeeyat Ka Masla |
مابعدالطبیعات کا مسئلہ
مابعدالطبیعات کا بنیادی ترین مسئلہ یہ ہے کہ یہ عقلی ہو سکتی ہے اور نہ مکشوفاتی ہوتی ہے۔ یعنی مابعدالطبیعات کسی معلوم کا علم ہے اور نہ کسی مکشوف کا عرفان۔ یاد رہے کہ "معلوم" اور "مکشوف" دونوں ہی قوائے انسانیہ کے ذرائع سے وجود کے ادراکات ہیں اور "علم" اور "عرفان" ان سے مابعد ہیں اور ان دونوں کی نوعیت انسانی حاصلات کی ہے۔ معلوم، وجود شہودی ہے اور اس کا ادراک حسی اور علم توسیطی ہے، جبکہ کسی وجودِ غیبی کی ہونیت (isness) ایمانی ہے، اس کا ادراک مکشوفاتی ہے اور اس کا عرفان حضوری ہے۔
اس طرح معلوم و مکشوف قوائے انسانیہ کی استعدادات اور احوال سے براہِ راست جڑے ہوئے اور ان سے اثر پذیر رہتے ہیں۔ عقلِ انسانی بخوبی جانتی ہے کہ "معلوم" کا زمرۂ وجود "نامعلوم" کے زمرۂ وجود کے بغیر فرض ہی نہیں کیا جا سکتا اور نہ شعور اور علم کا موضوع ہی بن سکتا۔ عقلِ انسانی اپنے وسائل سے وجود کے دونوں زمروں پر "علم" کا........