Islami Aur Ghair Islami: Aqli Daleel Ya Siasi Ikhtiyar?
اسلامی اور غیر اسلامی: عقلی دلیل یا سیاسی اختیار؟
انیسویں صدی کے آغاز سے برصغیر کے مسلم معاشرے میں شروع ہونے والے تکفیری مباحث کا بنیادی ترین نکتہ یہ تھا کہ "اسلامی" اور "غیراسلامی" سے کیا مراد ہے، یہ کیسے طے ہوگا اور کون طے کرے گا۔ عظیم مغلیہ سلطنت کے زوال، مسلم معاشرے کے انحطاط اور بالآخر مسلم تہذیب کے مکمل انہدام کی صورت حال میں طاقت اور معاش کے ادارے ٹوٹ گئے، علم کی روایتیں رزق خاک ہوئیں اور مسلم معاشرت کا تار و پود بکھر گیا، یہانتک کہ برطانوی استعمار کا غلبہ بتدریج مکمل ہوگیا۔
ایسی بھیانک صورت حال میں مسلم معاشرے کے اہل علم بجا طور پر اسی منبع کی طرف ملتفت ہوئے جو ان کے خیال میں مسلم معاشرے کو اس صورت حال سے نکال سکتا تھا اور وہ ان کا دین تھا۔ ہمارے اہل علم نے اسلام کو تھام لیا لیکن بدلے ہوئے حالات، امڈتے ہوئے جدید علوم اور ہر لحظہ بدلتی استعماری تاریخ میں ان کے درمیان نزاع اسلام کی تعبیر پر ہوا اور تکفیر کا نقطۂ ماسکہ یہ ٹھہرا کہ کس کا اسلام "اسلامی" ہے اور کس کا اسلام "غیراسلامی" ہے۔
گزارش ہے کہ اگر برصغیر کی تاریخ کے مشکل اور بھیانک دور میں سرگرم اہل علم اور علما کی نیت کو زیربحث لایا جائے گا، تو اس صورت حال کی تفہیم میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکتی اور نہ اس سے نکلنے میں کوئی کام کی بات سامنے آ سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان اہل علم اور........
