Ilhad Aur Manazra |
جناب مفتی شمائل ندوی اور جناب جاوید اختر کے درمیان چند ہفتے قبل جو مناظرہ ہوا، اس پر الغاروں متن مشینوں میں سے بہہ چکا اور مسلم ذہن بھی اس میں خوب ڈبکیاں لگا چکا۔ اس مناظرے سے مسلمانوں میں بہرحال خوشی کی ایک لہر سی ضرور پیدا ہوئی ہے اور یہ خوشی ویسی ہی ہے جیسی کسی شیرخوار کے پہلی مرتبہ پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش سے والدین کو ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آخرکار مسلم ذہن کو بھی خبر ہو ہی گئی کہ دنیا بھر کے انسان تو "خدا کے وجود" پر "علمی" بحثیں کر رہے ہیں اور حالات کا جبر اسے بھی اس میں کھینچ لایا ہے۔ عصر حاضر کے مسلمان اہلِ علم کے شعور کی ساخت نہ مذہبی رہی ہے اور نہ علمی۔ اس ذہن کے پاس کچھ کلامی سخن ریزے (anecdote) رہ گئے ہیں جنھیں وہ چھروں........