Zindagi Aur Kahaniyan |
بچپن میں ہم عمرو عیار، ٹارزن اور ہرکولیس کی کہانیاں شوق سے پڑھتے تھے۔ سکول کے لئے جو پیسے دیئے جاتے تھے اکثر اس سے یہی کہانیاں خریدتے تھے۔ کبھی کبھار ڈھیر ساری کہانیاں خریدنے کے چکر میں چھوٹے یا بڑے بھائی کے پیسوں پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے۔ اس حرکت پر اب بھی شرمندگی ہوتی ہے اور ان کے لئے دل سے دل دکھتا ہے کہ میری وجہ سے انہوں نے سکول کی دنوں میں تکالیف اٹھائی۔
ڈائجسٹ وغیرہ بہت کم ہی ہاتھ آتے تھے۔ سچی کہانیاں کبھی کبھار پڑھ لیتے۔ نونہال اور شاہین بھی کبھی مل جاتا۔ شعاع اور کرن وغیرہ بھی پڑھنے کو ملے۔ اخبار جہاں کو تین عورتیں تین کہانیاں پڑھنے کے لئے بک سیلر کی دکان سے کرایہ پر گھر لے جایا کرتے تھے اور بعد میں کرایہ دیئے بنا لوٹاتے تھے۔ تین عورتیں تین کہانیوں سے بعد میں اکتاہٹ ہوئی کیوں کہ ہر کہانی دکھوں سے بھرپور ہوتی اور دیو، پریوں اور جادوگروں کی کہانیاں پڑھنے والا یہ سب اتنی آسانی سے ہضم نہیں کر........