Zawiya e Toheed Fikr e Iqbal Ki Roshni Mein

زاویۂ توحید فکرِ اقبال کی روشنی میں

انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے وہ دیکھنا سیکھتا ہے۔ یہی دیکھنا اس کی پہچان بن جاتا ہے، مگر کیا ہر دیکھا ہوا سچ ہوتا ہے؟ یہاں سے ایک اہم فرق جنم لیتا ہے: بصارت، بصیرت اور ادراک کا فرق۔

بصارت وہ ظاہری قوت ہے جس سے انسان اشیاء کو دیکھتا ہے۔ یہ آنکھ کا عمل ہے، جو رنگ، شکل اور صورت کو پہچانتا ہے۔ لیکن بصارت محدود ہے، یہ صرف ظاہر تک رسائی رکھتی ہے۔ اگر انسان نیلا، پیلا یا لال چشمہ پہن لے تو پوری دنیا اسی رنگ میں نظر آئے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھنے کا عمل خود حقیقت کی ضمانت نہیں۔

بصیرت اس سے ایک درجہ بلند ہے۔ یہ دل کی آنکھ ہے، جو صرف شکل نہیں بلکہ معنی کو دیکھتی ہے۔ بصیرت وہ نور ہے جو انسان کو ظاہر کے پردے کے پیچھے چھپی حقیقت تک لے جاتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان چیزوں کو صرف دیکھتا نہیں بلکہ سمجھتا ہے۔

اور پھر آتا ہے ادراک یعنی شعور کی وہ منزل جہاں انسان حقیقت کو پہچان لیتا ہے، چاہے وہ........

© Daily Urdu (Blogs)