Helmet Aur Ghair Muhazzab Rawaiya
کسی بھی مہذب معاشرے اور مہذب قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ ریاستی قوانین پر عمل درآمد کریں اور ریاست کا بھی فرض ہے وہ اپنی عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرے۔
آئیں آج ہم ہیلمٹ اور ٹریفک قوانین پر تفصیلی بحث کرتے ہیں ہم روزانہ سوشل میڈیا پر ہیلمٹ اور جرمانوں کی ذکر سنتے ہیں اور کچھ تو دکھ بھری کہانی ہوتی ہیں آئیں ایک جائزہ پیش کرتے ہیں۔
پنجاب میں جب سے محترمہ وزیرِ اعلیٰ نے ٹریفک قوانین پر سختی اور ہیلمٹ کے استعمال کو لازمی قرار دیا ہے، تب سے سڑکوں پر ایک عجیب منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہر چوک، ہر ناکے پر ٹریفک اہلکار، ہر موٹر سائیکل سوار مشکوک اور ہر شہری خوف میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ روزانہ مقامی اور سوشل میڈیا پر بھاری جرمانوں، موٹر سائیکلوں کی بندش، گرفتاریوں اور مبینہ رشوت کی داستانیں گردش کر رہی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اچانک پورا صوبہ ہی قانون شکن قرار دے دیا گیا ہو۔
یہ بات طے ہے کہ ہیلمٹ پہننا نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ انسانی جان کے تحفظ کے لیے ناگزیر بھی ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ سوال مگر یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے؟
کیا قانون کا مقصد اصلاح ہے یا خوف؟
کیا........
