Parchoon Ki Dukan Aur Akhtar Rangsaz |
پرچون کی دکان اور اختر رنگساز
ابھی صبح کے سائے گہرے تھے اور میں روزمرہ کا کچھ سامان لینے محلے کی پرچون کی دکان پر پہنچا ہی تھا کہ دیکھا، مجھ سے پہلے ہی وہاں محلے کے چند بزرگ احباب سر جوڑے بیٹھے تھے۔ ان چہروں پر ایک عجیب سی فکرمندی واضح تھی۔ ہمارے محترم بابا بھگت ہمیشہ کی طرح اپنی گہری سوچ میں مگن تھے، جبکہ پا منیر اور لطیف شاہ پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے شیڈول پر گرما گرم بحث کر رہے تھے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں اور حکومت کی طرف سے سردی اور دھند کے باعث تاخیر کی تجاویز پر گفتگو شروع ہوئی تھی۔ بابا بھگت کہہ رہے تھے کہ نچلی سطح پر جب تک غریب کو نمائندگی نہیں ملے گی، محلے کے گلی کوچوں کے مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔ مجھے دیکھتے ہی پا منیر نے مسکرا کر آواز دی، "آیئے صاحب! آپ ہی بتائیے، الیکشن کمیشن اور حکومت کی اس کھینچا تانی میں اب آگے کیا ہوگا؟ ملک اور صوبہ کس طرف جا رہا ہے؟" یہ سب احباب مجھے پڑھا لکھا اور حالاتِ حاضرہ پر نظر رکھنے والا سمجھتے ہیں، اس لیے اکثر ایسے سوال پوچھ لیتے ہیں۔
ان کا یہ معصومانہ سوال صرف ان کا نہیں تھا، بلکہ اس وقت میرا، آپ کا اور ہر اس پاکستانی کا ہے جو صبح اٹھ کر جب زندگی کی تلخ سچائیوں کا سامنا کرتا ہے تو اس کا دل دہل جاتا ہے۔ ابھی میں بابا بھگت اور لطیف شاہ کو ان بلدیاتی الیکشنوں اور ملکی سیاست پر کوئی جواب دینے ہی والا تھا کہ دکان کے کونے میں بیٹھے ہمارے محلے کے رنگساز اختر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور........