Muhabbat Ka Din Ya Ehsas e Insaniyat? |
فروری کا مہینہ جونہی آتا ہے، فضا میں ایک عجیب سا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ دکانوں کی کھڑکیوں میں لال گلاب سجے ہوتے ہیں، کیفے میں موم بتیوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے، نوجوانوں کے چہروں پر چمک اور آنکھوں میں سرخی سی اتر آتی ہے۔ 14 فروری ویلنٹائن ڈے، جو بظاہر محبت کرنے والوں کا دن کہلاتا ہے، مگر اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دراصل احساسات کے اظہار کا دن ہے، چاہے وہ کسی محبوب کے لیے ہو یا انسانیت کے لیے۔
محبت ایک جذبہ نہیں، ایک طرزِ احساس ہے۔ یہ کسی خاص رنگ، مذہب، یا ثقافت تک محدود نہیں۔ محبت تو اس روشنی کا نام ہے جو ظلمتوں میں راستہ دکھاتی ہے، جو انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار اور قربانی کی راہ پر لے آتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہ دن ایک مصنوعی، تجارتی میلے میں بدل چکا ہے۔ سرخ دلوں اور گلابوں کی قیمت بڑھ چکی ہے مگر احساس کی قدر گھٹ گئی ہے۔ محبت کے نام پر دکھاوا، چاہت کے نام پر وقتی جذبات اور رشتوں میں خلوص کے بجائے نمائش کا عنصر غالب آچکا ہے۔
ہماری مشرقی اقدار میں........