menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lahore Mein Basant Ki Wapsi Bo Kata

17 29
05.02.2026

لاہور کے آسمان پر پھر سے زرد رنگ لوٹنے کو ہے۔ اٹھارہ برس تک پابندی اور خاموشی کے بعد، اب ایک بار پھر شہرِ لاہور کو بسنت کی مشروط اجازت مل چکی ہے اور یہ خبر سن کر جیسے لاہوریوں کے دلوں میں دبی ہوئی خوشیاں جاگ گئی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب بسنت کا نام آتے ہی لوگوں کی آنکھوں میں روشنی اور دلوں میں جوش بھر جاتا تھا، اب یہی کیفیت دوبارہ جنم لیتی محسوس ہو رہی ہے۔

بسنت دراصل صرف پتنگ بازی کا نام نہیں بلکہ لاہور کے اجتماعی شعور، اس کے مزاج اور اس کی تہذیبی پہچان کا استعارہ ہے۔ جب فروری کی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے، تو اس کے جھونکوں کے ساتھ پرانی یادیں بھی لوٹ آتی ہیں، چھتوں پر چہل پہل، گلیوں میں گونجتا ہوا "بو کاٹا" اور رات ڈھلتے ہی روشنیوں سے جگمگاتا ہوا آسمان۔ آج جب حکومت نے ایک مرتبہ پھر اس تہوار کو محدود اور منظم انداز میں بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے شہر کی سوئی ہوئی رگوں میں پھر سے زندگی دوڑائی جارہی ہو۔

وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا بسنت کی بحالی کا فیصلہ ایک سیاسی اقدام سے زیادہ ثقافتی اعلان کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ درحقیقت اس احساس کا اعتراف بھی ہے کہ پنجاب خصوصاً لاہور کی شناخت میں بسنت کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ سرکاری سطح پر بسنت کے لیے مخصوص دن مقرر کرنا، اسے منظم فیسٹیول کی شکل دینا اور اس کے گرد ایک مکمل انتظامی فریم ورک بنانا اس بات کی علامت ہے کہ ریاست اب اس........

© Daily Urdu (Blogs)