Biscuit Bechne Wala Bacha

میں اپنے گھر سے نکل کر اے ٹی ایم (ڈیوس روڈ) میں داخل ہوئی، باہر آتے ہوئے میری نظر نو دس سال کے بچے پر پڑی جو ہاتھ میں بسکٹوں کا ڈبہ پکڑے رو رہا تھا۔ میں نے اس سے رونے کا سبب پوچھا تو بولا کہ میں نے صبح تین ہزار کے بسکٹ خریدے۔ میرے پاس اٹھائیس سو روپے تھے جو کہ ایک نشئی نے مجھ سے چھین لئے۔ اب اس کو پوری رات جاگ کر یہ پیسے پورے کرنے تھے۔

یہ صرف ایک بچے کی کہانی نہیں ہے۔ جو اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے دربدر کی ٹھو کریں کھانے پر مجبور ہے۔ خدا معلوم کتنے سفید پوش ہیں جو مانگ نہیں سکتے اور کس طرح اپنی زندگی کی گاڑی کو گھسیٹتے چلے آ رہے ہیں۔ جب بڑی بڑی اے سی والی چم چم کر تی گاڑیاں سڑک پر موجود مخنت کشوں کی ہنسی اڑاتے ہوئے گزر جاتی ہیں اس وقت ان سڑکوں پر........

© Daily Urdu (Blogs)