Shibli Aur Yadgar e Shibli
تاریخ کی جس الماری سے میں کتب جاری کرواتا ہوں وہاں اکثر "یادگار شبلی" پڑی دیکھی، پہلے تو عدیم الفرصتی کا سوچ کر ٹالتا رہا لیکن آخر کار ایک دن جاری کروا ہی لی، چار صد سے زیادہ صفحات کی یہ کتاب شیخ محمد اکرام کی تحقیق ہے، شیخ محمد اکرام بڑے درجے کے محقق اور پڑھے لکھے انسان تھے، بڑی ستھری کتاب لکھی ہے، سچ ہے کہ شبلی و حیات شبلی و تصنیفات شبلی پر تحقیق و تنقید و تبصرے کا حق ادا کر دیا ہے۔
مولانا شبلی نے 1914ء میں وفات پائی، انتقال سے قبل عزیز شاگرد سید سلیمان ندوی کو وصیت کی کہ میری سوانح لکھ دینا، شاگرد نے (میری ناقص یادداشت کے مطابق) 1940ء کے آس پاس تکمیل کی اور آٹھ نو سو صفحات کی کتاب "حیات شبلی" لکھ کر سامنے لایا، جس کا ہر طرف خیر مقدم ہوا۔
البتہ کتاب میں ایک سقم رہ گیا، شبلی اول اول جب علی گڑھ میں ملازم ہوئے (جس کا قصہ ابھی آتا ہے) تو وہ سرسید ہی کی کوٹھی میں ایک طرف رہائش پذیر تھے، رات کے کھانے پہ روزانہ ملاقات ہوتی اور علم و فن و ادب و مذہب و عقل کی ہزاروں باتیں زیر بحث آتیں، سرسید کے کتب خانے میں عربی و فارسی کے جواہر پارے موجود تھے، شبلی نے ان کتب سے بھی جی بھر کے استفادہ کیا، شروع میں وہ ان کی اصلاحی تحریک سے بھی متاثر........
