Sheikh Saadi Aur Hindustan
شیخ سعدی اور ہندوستان
سعدی اسلام کے مشاہیر میں سے ہیں جنہوں نے بہت سے علاقوں کی سیاحت کی ہوئی تھی مثال کے طور پہ بلخ، ترکستان، تاتار، عراق، آذربائجان، شام، فلسطین، ایشیاء کوچک، اصفہان، تبریز، بصرہ، کوفہ، واسط، بیت المقدس، طرابلس، دمشق، دیار بکر، روم، افریقہ کے متعدد ممالک، یمن، صنعا، مصر اور حبش وغیرہ۔
انہوں نے کل 14 حج کیے اور تمام عمر کے تجربات کو دو کتابوں گلستان و بوستان میں سمیٹ دیا، اب ہمارے دیار سے فارسی کا چلن ختم ہو چکا وگرنہ ماضی قریب تک بڑے اور چھوٹے بڑے شوق سے ان کتب کو پڑھتے پڑھاتے تھے۔
کیا شیخ ہندوستان بھی آئے!
یہ ایسا سوال ہے جس میں محققین کا اختلاف ہے، اس اختلاف کی بڑی وجہ بوستان کی ایک ناقص حکایت ہے۔
سب سے پہلے حکایت کا خلاصہ سن لیجئے۔
شیخ باب ہشتم میں لکھتے ہیں: "میں نے (ہندوستان میں واقع مندر) سومنات میں ہاتھی دانت کا بنا ہوا ایک زبردست بت دیکھا جو بہت قیمتی جواہرات سے مرصع تھا، برصغیر کے ہر علاقے کے ہندو اس کی زیارت کو آتے اور چین اور کئی دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کو بھی اس کی طلب تھی۔
جس مسافر خانے میں میں ٹھہرا ہوا تھا وہاں میرے ساتھ ایک ہندو نوجوان بھی تھا، ایک دن میں نے اس سے کہا لوگوں پہ تعجب ہے، یہ بت بے جان ہے، اس کے ہاتھوں میں طاقت نہیں اور نہ ہی یہ چل سکتا ہے پھر بھی اس........
