menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Muash e Nabvi (2)

42 0
11.06.2026

مدنی زندگی میں آپ کے پاس ایک سو بکریاں تھیں اور حافظ ابن القیم نے دلچسپ بات لکھی ہے کہ آپؑ بکریوں کی گنتی ایک سو تک پوری رکھتے، اگر کوئی بکری بچہ جنتی تو اس کی جگہ دوسری ذبح فرما دیتے۔

احادیث، سیرت اور تاریخ کی کتب سے شواہد ملتے ہیں کہ مدنی زندگی کی ابتدا ہی سے آپ نے دودھ دینے والی اونٹنیوں کو پالنا شروع کر دیا تھا، انہیں کئی مقامات پر باڑوں میں رکھا جاتا، ان کی دیکھ بھال کے لیے باقاعدہ چرواہے رکھے جاتے (اگرچہ وہ مختصر وقت کے لیے ہوتے) اور ان اونٹنیوں کے چارے کے لیے چراگاہیں مخصوص تھیں، آپ نے ہر اہلیہ کو اونٹنی عطا کر رکھی تھی، ہر سال عید الاضحی کے موقع پر اپنی اور ازواج کی طرف سے قربانی کیا کرتے، چاروں عمروں اور اکلوتے حج میں بھی قربانی کی، بعض مواقع ایک سے زائد جانور ذبح کیا، ایک مرتبہ ذوالجدر نامی چراگاہ میں آپ کی پندرہ اونٹنیاں چر پھر رہی تھیں، غارت گر آئے اور بھگا لے گئے، صحابہ کرام نے بروقت تعاقب کرکے سب کو آزاد کروا لیا، اس نوع کے ایک دو واقعات اور بھی ہوئے۔

آپ کی ملکیت میں ایک یا دو خچر تھے، کئی گھوڑے بھی........

© Daily Urdu (Blogs)