Kya Jeet Zaroori Hai?
اتوار کو روزنامہ جنگ ملتان کی شہ سرخی پڑھ کر حیرت ہوئی جو امریکی صدر کے ایک بیان پر مشتمل تھی "ہم صرف جیتنا چاہتے ہیں ٹرمپ" ان کی خواہش بجا ہے کیونکہ ہر ایک میدان میں اتر کر جیتنا چاہتا ہے کوئی ہارنا نہیں چاہتا لیکن سوال یہ ہےکہ وہ کیسی جیت چاہتے ہیں؟ کیا وہ ایران اور خطے کی بربادی کو اپنی جیت کا اعلان تصور کریں گے؟ بےتحاشا بارود اور میزائیلوں کی لگاتار بارش اور ناکا بندیوں کے باوجود اور ایران کے انفراسٹرکچر کی تباہی کے بعد بھی وہ ایسا کیا چاہتے ہیں جو ان کی جیت کا اعلان بن سکے؟ پوری دنیا اب ایسا کیا کرئے کہ وہ جیت اور فتح سے ہمکنار ہو سکیں؟
گذشتہ عرصے سے جاری جنگ میں ان کے مطابق امریکہ اپنی پوری طاقت سے ایران کی قیادت کے ساتھ ساتھ ان کا سب کچھ تباہ کرنے کے دعوےکر چکا ہے مگر شاید پھر بھی فتح کا تاج سر پر نہیں سجا سکا۔ میں کوئی دفاعی تجزیہ کار تو نہیں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ صدر ٹرمپ دنیا کی سب سے بڑی عالمی طاقت کے سربراہ ہیں۔ طاقتور اور مضبوط ہونے کے ناتے وہ یہ جنگ صرف اسی صورت میں جیت سکتے ہیں کہ وہ اپنی بڑائی کو ثابت کریں اور انسانیت کی بقا اور دنیا کے امن کے لیے رضاکارانہ طور جنگ بند ی کردیں اور علاقے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیں ان کا یہ احسان پوری دنیا ناصرف ہمیشہ یاد رکھے گی بلکہ اس طرح وہ امن کا تاج بھی اپنے سر پر سجا لیں گے۔
تاریخ میں انہیں ہمیشہ ایک ایسا فاتح سمجھا جائے گا جس نے طاقتور ہوتے ہوئے بھی انسانیت کو تباہی سے بچا یا۔ یاد رہے کہ امن کی جیت دنیا کی سب سے بڑی فتح ہوتی ہے جو طاقت سے نہیں احساس اور سوچ سے جنم لیتی ہے۔ وہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن وسلامتی........
