Apni Ainak Ke Sheeshay Saaf Rakhen |
اپنی عینک کے شیشے صاف رکھیں
کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ اپنے نئے گھر میں منتقل ہوا۔ صبح کے وقت جب وہ دونوں ناشتہ کر رہے تھے تو بیوی نے باہر جھانکا اور باغ میں پڑوسن کے سوکھتے کپڑے دیکھ کر حیرانی سے کہا دیکھو ہماری پڑوسن کا دھلا ہوا کپڑا بالکل صاف نہیں وہ شاید صیح طریقے سے کپڑے دھونا نہیں جانتی۔ پھر ہر روز یہ تبصرہ وہ دہراتی جب بھی پڑوسن کپڑے دھوتی اور باہر باغ میں سکھانے کو ڈالتی۔
تقریباََ ایک مہینہ گزر گیا اور ایک دن اچانک بیوی نے حیرت سے دیکھا کہ پڑوسن کا دھلا ہوا کپڑا چمکدار اور بےداغ تھا۔ وہ خوشی سے بولی دیکھو آخر کار ہماری پڑوسن نے صیح طریقے سے کپڑے دھونا سیکھ لیا ہے۔ شوہر نے مسکرا کر اسے دیکھا اور بولا "نہیں آج صبح میں نے وہ کھڑکی کا شیشہ صاف کردیا ہے جس سے تم باہر دیکھا کرتی تھیں۔ پھر وہ نرمی سے بولا "ہم دوسروں میں خامیاں دیکھنے سے پہلے اپنی نظروں کی دھند صاف کریں کیونکہ اکثر مسئلہ ہماری نظر میں ہوتا ہے نہ کہ دوسروں کے "۔
ہم دوسروں میں خامیاں دیکھنے سے پہلے اپنی نظروں کی دھند صاف کریں، کیونکہ اکثر مسئلہ ہماری ہی نظر میں ہوتا ہے، نہ کہ دوسروں کے کام میں۔ اپنی غلطیوں کو سدھارو پھر دوسروں میں عیب تلاش کرو۔ اس لیے اپنی عینک کا شیشہ صاف رکھیں آپ کو سب کچھ صاف نظر آئے گا۔ میرے ایک مرحوم دوست شوکت جمال کی یہ عادت تھی کہ وہ بار بار اپنی دور کی عینک کے شیشے صاف کرتا رہتا تھا........