menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aala Tareen Civil Award Ya Azmat Ka Eteraf

12 1
08.02.2026

فرانس میں ایک پاکستانی نژاد تہتر سالہ بزرگ اخبار فروش کو ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دیا جاتا ہے جو پیرس کے مشہور لاطینی کوارٹر میں گذشتہ پچاس سال سے زائد عرصے سے اخبارات بیچ رہا ہے۔ انہیں فرانس کا یہ اعلی ترین اعزاز یعنی (نیشنل آرڈر آف میرٹ) کا "میں نائٹ ہوں" کا لقب دیا گیا۔ اس اعزاز کو فرانسیسی صدر ایما نوئل میکرون نے ایلیزے پیلس (فرانسیسی صدارتی محل) میں ایک سرکاری تقریب میں علی اکبر کو سینے پر لگایا۔

صدر نے ان کی خدمت کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے فرانس کی ثقافت اور معاشرئے میں رچ بس کر لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ یہ بوڑھا علی اکبر روالپنڈی پاکستان سے ستر کی دھائی میں فرانس آئے تھے۔ انہوں نے وہاں پیرس کی سڑکوں پر بطور ہاکر اخبارت بیچنے کا کام شروع کیا اور اپنے دوستانہ انداز، مخصوص آواز اور مزاحیہ انداز کی وجہ سے شہر بھر میں اپنی پہچان بنا لی۔ پرنٹ میڈیا کے زوال کی وجہ سے انہیں پیرس کا آخری اخبار فروش بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان جیسے روائتی اخبار فروش اب بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔

اسے ملنے والا یہ فرانس کا ایک معزز شہری اعزاز ہے جو غیر معمولی خدمات پر دیا جاتا ہے چاہے وہ معاشرتی، ثقافتی یا پیشہ ورانہ ہوں یہ اعزاز علی اکبر کے طویل اور متحرک پیشوارانہ کیریر، ان کی محنت اور فرانسیسی معاشرے کے ساتھ ان کے گہرے تعلق کا اعتراف ہے اور اس سے پاکستانی کمیونٹی میں بھی فخر کا اظہار کیا جارہا ہے۔ آواز لگا کر سیاسی خبروں کو گھروں کی اوپری منزلوں تک پہنچانے کے لیے مشہور پاکستان کا علی اکبر یوں حیرت انگیز طور پر فرانس کا قومی ہیرو بن گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ اخبار بیچتے ہوئے "میں مزاحیہ جملے بولتا رہتا ہوں جس پر لوگ ہنستے ہیں اور میری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ میں لوگوں کے دلوں میں اترنے کی کوشش کرتا ہوں جیبوں میں........

© Daily Urdu (Blogs)