Chand Foot Ki Zindagi
نواب آف کالا باغ کے سامنے اُس وقت کے صدر ایوب خان بھی خاموش ہوجاتے تھے۔ جب نواب صاحب مغربی پاکستان کے گورنر تھے تو قیمتوں اور جرائم پر مثالی قابو رکھتے تھے، سفارش سنتے تھے اور نہ ہی کرپشن کا کوئی داغ اُن کے دامن پر تھا۔ ان کا جلال اور انتظامی صلاحیت مثالی تھے۔ سو اُن کے قتل کی خبر پورے ملک میں بھونچال لے آئی۔ اُن کے بیٹے نے غصّے میں نواب صاحب کو گولی مار دی تھی۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ انھوں نے کھیل کا چست اور مختصر لباس پہننے پر اپنی بہو کو ڈانٹا تھا۔ بیٹا اپنی بیوی کی بے عزتی سہ نہ سکا اور باپ کو قتل کردیا۔ نواب صاحب کو گمان بھی نہیں ہوگا کہ ابھی تو انھوں نے چھوٹی سی بات پر اہلِ خانہ پر غصہ کیا ہے، آیندہ زمانوں میں کیا کیا کچھ ہونے والا ہے۔
خیر یہ تو لمحاتی غصے میں بیٹے کے باپ کو قتل کرنے کا واقعہ تھا۔
تاریخ کی آنکھیں اپنوں کی بے مروّتی پر آنسو بہا کر اندھی ہوچکی ہیں۔
طاقت، اختیار، اقتدار کیسے آدمی کو بے وفا اور بے حیا کر دیتے ہیں۔ باپ کی طاقت اولاد میں ہوتی اور بیٹوں کی طاقت کا سرچشمہ باپ ہوتا ہے مگر وہ باپ کے خلاف درندے ہوجاتے ہیں۔ اللہ اللہ انسان بھی کیا کوتاہ نظر اور خود غرض مخلوق ہے۔ شاید یہ ترکیب بھی غلط ہے کہ کوئی درندہ........
