Hum Middle Classiya Danishwar |
ہم مڈل کلاسیے اپنی عظمت کی عمارت دوسروں اور خاص طور پر اکابرین کی برائی کی بنیادوں پر تعمیر کرتے ہیں۔ جس طرح مکھی زیادہ تر گندگی اور کچرے پر بیٹھتی ہے اُسی طرح ہم مڈل کلاسیا دانشور اپنے بڑوں اور اکابرین کی صرف برائیوں کو تلاش کرکے اُن کی تشہیر کرکے اُن کے کارناموں کو بے توقیر کرتے ہیں۔ جب ہم اِن شخصیات پر بات کر رہے ہوتے ہیں تو اِن کی کوئی اچھائی یا کامیابی ہمیں اِس قابل نہیں لگتی کہ اُس کا ذکر کیا جائے۔
اِن شخصیات کے مخالفین یا دشمنوں کے لیے ہمارے دل میں بہت وسیع نرم گوشہ ہوتا ہے لیکن ہم اپنے اکابرین کے حوالے سے انتہائی کٹھور ہوتے ہیں اور اُنہیں کوئی شک کا فائدہ (benefit of doubt) نہیں دیتے۔ اُن کو جانچنے اور اُن پر حکم لگانے کے لیے ہم دشمنی کی حد تک کڑی کسوٹیاں استعمال کرتے ہیں۔ اُن کے اصلاحی کاموں، یا سیاسی اِقدامات کو کبھی اُن کی ذاتی بشری کمزوریوں کی بنیاد پر بے توقیر کرتے ہیں، کبھی اُن کے دور کے حالات، رسوم و رواج، اقدار، نظریات، خطرات، تحفظات، امنگوں اور روحِ عصر کو سراسر نظرانداز کرتے ہوئے اُنھیں اپنے اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے وسط والے نظریات کی عینک سے........