Askari Wussat Ya Aalmi Tawazun Ki Nai Bisat? |
عسکری وسعت یا عالمی توازن کی نئی بساط؟
عالمی سیاست کے ارتقا میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو محض بجٹ دستاویزات نہیں رہتے بلکہ آنے والے عشروں کی تزویراتی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے مالی سال 2027 کے لیے پیش کردہ ریکارڈ دفاعی بجٹ بھی اسی نوعیت کا ایک فیصلہ معلوم ہوتا ہے، جس نے نہ صرف عالمی مبصرین کو چونکا دیا ہے بلکہ بین الاقوامی طاقت کے توازن، عسکری ترجیحات اور معاشی ترجیحات کے باہمی تعلق پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس مجوزہ بجٹ کا حجم تقریباً ڈیڑھ ٹریلین ڈالر تک پہنچتا ہے، جو امریکی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے اور اس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 42 فیصد تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ اضافہ محض روایتی دفاعی اخراجات تک محدود نہیں بلکہ اس کا مرکز جدید جنگی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور بغیر پائلٹ کے ہتھیاروں کی ترقی ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے ڈرونز اور ان کے خلاف ٹیکنالوجیز کے لیے تقریباً 75 ارب ڈالر مختص کیے جانے کی تجویز اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ مستقبل کی جنگیں میدانِ کارزار سے زیادہ ڈیجیٹل فضا، الگورتھمز اور خودمختار مشینوں کے ذریعے لڑی جائیں گی۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو جنگ کے روایتی تصورات کو یکسر بدل رہی ہے، جہاں انسانی مداخلت کم اور مشینی فیصلہ سازی کا عمل زیادہ غالب ہوتا جا رہا ہے۔
اس بجٹ میں ایک اور نمایاں پہلو دفاعی خودکار نظاموں یعنی "ڈیفنس آٹونومس یونٹ" کے لیے فنڈنگ میں غیر معمولی اضافہ ہے، جو 63 ارب ڈالر سے بڑھا کر 152 ارب ڈالر تک لے جانے کی........