Kya Shayaron Ne Aurat Ko Be Waqoof Banaya Hai? |
کیا شاعروں نے عورت کو بے وقوف بنایا ہے؟
عورت صدیوں سے شاعری کا سب سے خوبصورت اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا استعارہ رہی ہے۔ شاعر نے جب حُسن کی بات کی تو عورت سامنے آئی، جب محبت کا ذکر کیا تو عورت کا چہرہ اُبھرا، جب وفا کی مثال دی تو عورت یاد آئی اور جب بے وفائی کا شکوہ کیا تو الزام بھی عورت ہی پر رکھا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی شاعروں نے عورت کو سمجھا، یا صرف اسے اپنے تخیل، خواہش اور جذبات کی تکمیل کا ذریعہ بنایا؟ کیا شاعر نے عورت کو ایک مکمل انسان مانا یا صرف ایک محبوبہ، ایک جسم، ایک خواب، ایک خاموش سامع؟
اردو شاعری کی روایت میں عورت اکثر دو صورتوں میں سامنے آتی ہے: یا وہ بے مثال حُسن کی دیوی ہے، یا بے وفا محبوبہ۔ اس کے درمیان جو اصل عورت ہے، جو سوچتی ہے، تھکتی ہے، فیصلہ کرتی ہے، مزاحمت کرتی ہے، وہ بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ شاعر نے اس کے ہونٹوں کی تعریف کی، آنکھوں کی قسمیں کھائیں، زلفوں کو رات کہا، رخسار کو چاند بنایا، مگر اس کے ذہن، اس کے خوف، اس کی محرومی اور اس کے خواب کو کم ہی موضوع بنایا۔
میر تقی میرؔ نے کہا تھا:
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
یہ شعر حُسنِ بیان کی مثال ہے، مگر یہاں بھی عورت ایک جسمانی حُسن کے پیکرکے طور پر موجود ہے۔ اس کی شخصیت نہیں، صرف اس کے لب ہیں۔ مومن خان مومن نے بھی محبوب کے حُسن کو ایک فکری کائنات بنایا:
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
یہاں محبوب ایک جذباتی سہارا ہے، پھر بھی وہ ایک تصور ہے، ایک حقیقی عورت نہیں۔ اکثر شاعر عورت کو اپنے احساسات کی زمین بناتے........