Adalton Mein Sisakti Khawateen Ki Halat e Zaar

عدالتوں میں سسکتی خواتین کی حالتِ زار

عدالتوں کے لمبے برآمدوں میں بیٹھی وہ عورت خود کو اکثر ایک ایسے چکر میں پھنسی ہوئی محسوس کرتی ہے جس کا نہ کوئی آغاز دکھائی دیتا ہے نہ انجام۔ وہ انصاف کی تلاش میں گھر کی دہلیز سے نکلتی ہے مگر راستے میں اسے جو دُکھ اور اذیت ملتی ہے وہ اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔ پدرسری سماج میں پلی بڑھی وہ عورت جب اپنے حق کے لیے کھڑی ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس کی نیت پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ اسے باغی کہا جاتا ہے، اسے گھر توڑنے والی کہا جاتا ہے اور اس کے کردار کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

وہ عدالت میں داخل ہوتی ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی اجنبی دنیا میں آگئی ہے۔ وہاں کے پیچیدہ قوانین، وہاں کی زبان، وہاں کا ماحول سب اس کے لیے نیا ہوتا ہے۔ وہ نہ قانونی اصطلاحات سمجھتی ہے نہ ہی طریقہ کار سے واقف ہوتی ہے۔ اس لاعلمی کا فائدہ اکثر وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو خود کو اس کا مددگار ظاہر کرتے ہیں۔ وکیلوں کے دفاتر میں بیٹھ کر وہ امید لگاتی ہے کہ کوئی اس کی بات سنے گا مگر اکثر اسے ایسے مشورے دیے جاتے ہیں جن کا مقصد انصاف نہیں بلکہ فیس میں اضافہ ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد قانونی حقوق سے ناواقف ہے۔ یہی لاعلمی ان کے استحصال کا سبب بنتی ہے۔ بعض وکلا مقدمات کو جان بوجھ کر طول دیتے ہیں تاکہ زیادہ پیسے وصول کیے جا سکیں۔ وہ عورت جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہوتی ہے، مزید بوجھ........

© Daily Urdu (Blogs)