Jhoote Propaganda Ka Hal |
جھوٹے پراپیگنڈا کا حل
مجھے کل پنجاب حکومت کی سنئیر وزیر مریم اورنگزیب کا بیان پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ اب غلط خبریں پھیلا کر حکومت کو بدنام کرنے والوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات دائر کریں گے۔ دیر آئید درست آئید میرے خیال میں الزامات سے اس وقت تک چھٹکارہ حاصل ہی نہیں کیا جا سکتا جب تک ان کی تحقیقات کرکے ان کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا جائے۔ اب جس قدر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں معلومات تک رسائی تیزر ہوگئی ہے اس ضرورت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے تاکہ عوام کو ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔
ہمارے ہاں غلط معلومات پر مبنی الزام تراشیوں کا سلسلہ ایک رواج بن چکا ہے اور سیاستدانوں سے لے کر نام نہاد صحافیوں تک ہر کسی نے اسے معمولی لیتے ہوئے دوسروں کی عزتوں سے کھیلنا شغل بنایا ہوا ہے۔ سیاستدانوں کی ذہنی سطح کا یہ حال ہے کہ وہ جھوٹ پر مشتمل الزام تراشیوں کو بعد میں سیاسی بیان کا نام دے دیتے ہیں۔ گویا سیاست میں جھوٹ اور الزام تراشی سب جائز ہے۔
جب سیاست کا یہ معیار ہوگا تو پھر اس کی پیدوار پارلیمان کے تقدس کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ یہی حال ہماری صحافت کا ہے جو جھوٹ بول کر جتنا زیادہ تجسس اور حیرانگی پیدا کر لے گا اتنا بڑا مقبولیت کے درجوں پر فائز ہوگا جو بظاہر ہماری اجتماعی معاشرت ہی کی عکاسی........