Dehshatgardi Se Qaum Aur Idaron Ko Mil Kar Nimatna Hoga |
ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر دراصل ملکی دفاعی صلاحیتوں کے حاسدین اور ترقی مخالف سرگرمیوں کا گٹھ جوڑ ہے اور ترلائی اسلام آباد میں مذہبی عبادت گاہ پر نہتے معصوم شہریوں کی جانیں لینے والا دہشت گردی کا قیامت خیز واقعہ بھی اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے۔
اب جب میں کالم لکھ رہا ہوں تو اس وقت تک 31 شہادتیں اور 169 زخمی ہسپتالوں میں پڑے ہیں جن میں سے بہت سارے انتہائی تشویشناک حالت میں ہی۔ پورے اسلام آباد میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور کہرام مچا ہوا ہے۔ اگر غیرت ہو تو اس کے پیچھے مذموم کرداروں کو اپنی بزدلانہ حرکتوں پر شرم آنی چاہیے۔
مگر چونکہ بیرونی سربراہاں کا پاکستان کے دوروں کا سلسلہ جاری ہے اور اربوں کے منصوبوں کے معاہدے ہونا شروع ہو چکے ہیں جو ہندوستان اور اسے کے حواریوں کی سازشوں میں ناکامی اور پر مئی میں لگے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس لئے اس طرح کی مزموم کوششیں انکی مجبوری ہے جس کا ہمیں پوری تیاری کے ساتھ جواب دینا ہوگا۔
ہم دکھ بھرے صدمے سے ضرور گزر رہے ہیں مگر ہماری سیکورٹی فورسز کا مورال بلند ہے اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ بہت جلد اس میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کرکے جہنم واصل کریں گے۔
ان دردناک لمحات میں پوری........