Hajj: Farziat Se Haqiqat Tak, Aik Inqilabi Safar |
حج: فرضیت سے حقیقت تک، ایک انقلابی سفر
حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے، جس پر دینِ اسلام کی عمارت قائم ہے۔ قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور اجماعِ امت سے اس کی فرضیت ایسے ہی ثابت ہے جیسے نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی۔ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے: "وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الُبَيُتِ مَنِ اسُتَطَاعَ إِلَيُهِ سَبِيلًا" (آل عمران: 97)
یعنی جو شخص استطاعت رکھتا ہو اس پر بیت اللہ کا حج فرض ہے۔ یہی وہ حکم ہے جو حضرت ابراہیمؑ کی صدا "وَأَذِّنُ فِي النَّاسِ بِالُحَجِّ" (الحج: 27) کے ذریعے قیامت تک کے انسانوں کے لیے بندگی کا ایک مستقل نظام بن گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی حج کو اسلام کے بنیادی ستونوں میں شمار فرمایا: "بُنِیَ الإِسُلاَمُ عَلَی خَمُسٍ" (بخاری)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حج محض ایک اختیاری عبادت نہیں بلکہ ایک لازمی فریضہ ہے، جس سے غفلت ایک سنگین کوتاہی ہے۔
لیکن حج کی حقیقت صرف اس کی فرضیت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا روحانی اور عاشقانہ سفر ہے جو انسان کو اس کے رب سے جوڑ دیتا ہے۔ انسان فطری طور پر اپنے گھر، اہل و عیال اور مال و دولت سے محبت رکھتا ہے، مگر جب وہ حج کے لیے نکلتا ہے تو ان سب کو........