Fanoon e Latifa Quran Aur Sunnat Ki Roshni Mein
انسان محض گوشت پوست کا نام نہیں، وہ ایک اخلاقی وجود بھی ہے، وہ اپنی حسِ جمالیات بھی رکھتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے حظ اٹھاتا اور لطف اندوز ہوتا ہے، جن میں جمال، ہو خوبصورتی ہو، کشش ہو۔ پس جس طرح اس کے جسم کو زندہ رہنے کے لیے غذا درکار ہوتی ہے، اسی طرح اس کے باطن اور احساسِ جمال کو بھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر جسم کی بھوک مٹائی جائے اور روح و احساس کو بھوکا رکھا جائے تو انسان زندہ تو رہتا ہے، مگر اس کی زندگی بے رنگ سی، بےبو سی اور بے ذائقہ سی رہتی ہے۔ وہ نڈھال نڈھال سا، تھکا تھکا سا رہتا ہے۔ خوشی کو ترستا رہتا ہے۔ اسی باطنی اور اخلاقی وجود کی غذا کو ہم فنونِ لطیفہ کا نام دیتے ہیں۔
فنونِ لطیفہ کی وجہِ تسمیہ ہی یہ ہے کہ یہ وہ فنون، مہارتیں اور اظہار کی صورتیں ہیں جن میں لطافت، حسن اور لذت پائی جاتی ہے۔ فنونِ لطیفہ میں ادب، مصوری، موسیقی، رقص، مجسمہ سازی، خطاطی، فنِ تعمیر، ڈراما اور ہر وہ چیز ہے، جسے ہم زیب و زینت دیتے ہیں، اس پہ نقش و نگار بناتے ہیں۔ لطافت بھرے یہ فنون انسان کے احساسات کو زندگی بخشتے........
