Old Karachi Ke Bawarchi Khanay

اولڈ کراچی کے باورچی خانے

میں کراچی جیسے بزی شہر کا پیدائشی باسی ہوں لیکن میرے دوست میری زبان سے گزرے کراچی کی باتیں سنکر مجھے "کراچی کا دیہاتی" کہتے ہیں جسے میں ایک اعزاز تصور کرتا ہوں۔ اس اعزاز کی ایک وجہ اس زمانے کے باورچی خانے اور ان کے کھانے ہیں ہیں۔ میں ترقی اور جدیدیت کے خلاف نہیں مگر اپنی روایات چھوڑنے کو بھی تیار نہیں اور گھر کے پکے روایتی کھانوں پر تو میں کسی کو بھی ہاتھ نہ مارنے دوں۔ آپ ایمانداری سے بتائیں جو مزا باورچی خانہ کہنے میں کیا کچن اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

مجھے یاد ہے ہمارے کراچی میں ایک زمانہ وہ بھی تھا جب مہینے کے سودے میں مصالحے بغیر کٹے / پسے آیا کرتے تھے۔ سل بٹے اور ہاون دستے میں ان کو پیسا اور کوٹا جاتا۔ دھانس سے ہمیں خوب ہی چھینکیں آیا کرتیں۔ ناک سے پانی بہہ نکلتا۔ نعمت خانے کو تو سب بھول گئے ہوں گئے۔ کہاں گیا وہ چھینکا، بادیہ وغیرہ۔

اس زمانے میں خاندان کی خواتین میں ہر ایک کے ہاتھ کی کوئی نہ کوئی ہنڈیا اپنی خوشبو اور ذائقے میں مشہور ہوتی۔ لوگ خاص طور پر مدعو کیے جاتے۔ ایک ایک نوالے پر تعریفیں ہوتیں اور اسی میں پھر کسی کے ہاں کا پروگرام بن جاتا۔ اس تمام عمل میں ہماری روایات اور معاشرت کے طریقے زندہ ہوتے۔ چھوٹے بڑے ساتھ مل بیٹھتے، ادب و آداب سیکھتے۔ رشتے داریوں میں بغیر کسی اسٹیٹس کے جان پڑ جاتی۔

میرا خیال ہے کہ آب لاشعوری طور نیو ورلڈ فوڈ آرڈر بھی متعارف........

© Daily Urdu (Blogs)