Patang, Kitab Aur Fikri Mukalma

لاہور کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ "لاہور لاہور ہے"۔ یہ محض ایک روایتی فقرہ نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفہ، ایک طرزِ زندگی اور ایک زندہ جاوید تہذیب کا اعلان ہے۔ گزشتہ چند روز میں لاہور نے اپنی اس تاریخی انفرادیت کو ایک بار پھر عالمی سطح پر ثابت کر دکھایا۔ ایک ایسے وقت میں جب پورا ملک معاشی عدم استحکام اور سیاسی ہیجان کی زد میں تھا لاہور نے اپنے دامن میں علم، ادب، احتجاج اور ثقافتی رنگوں کو ایک ساتھ سمیٹ کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ زندگی کا کارواں رکنے کے لیے نہیں، بلکہ تمام تر مشکلات کے باوجود مسلسل رواں دواں رہنے کے لیے ہے۔

گزشتہ جمعہ سے اتوار تک کا اختتامِ ہفتہ محض تعطیل کے ایام نہیں تھے، بلکہ یہ لاہور کی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں باب تھا جہاں بسنت کی ڈور، کتاب کے معطر صفحات اور فکری مکالمے کی تپش نے مل کر ایک نئی روح کو جنم دیا۔ لاہور میں بسنت کا شاندار تہوار، الحمرا ہال میں لاہور لٹریری فیسٹیول، ایکسپو سینٹر میں لاہور کتاب میلہ اور فلیٹیز ہوٹل میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا بیک وقت منعقد ہونا اس شہر کے زندہ دل ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

تقریباً دو دہائیوں کے طویل اور صبر آزما انتظار، کئی قانونی پیچیدگیوں اور سماجی رکاوٹوں کے بعد، لاہور کی فضاؤں میں پتنگوں کے رنگ دوبارہ دیکھنا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ وہ شہر جس کے آسمان کو برسوں سے نظر لگ گئی تھی، ایک بار پھر دھنک کے رنگوں سے بھر گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے محفوظ بسنت کا انعقاد ایک بڑا انتظامی اور سیاسی خطرہ تھا لیکن اس........

© Daily Urdu (Blogs)