Aalu Ke Kashtkaron Ke Muashi Qatal

پاکستان ایک ایسا زرعی ملک ہے جہاں کی معیشت کا پہیہ کھیتوں سے جڑا ہےلیکن آج وہی کھیت کسان کے لیے خوشحالی کے بجائے قرض اور خودکشی کا پیغام لا رہے ہیں۔ موجودہ سیزن میں آلو کی فصل نے جہاں پیداواری ریکارڈ توڑ کر پاکستان کو دنیا کے 10 بڑے آلو پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہےوہیں انتظامی نااہلی، برآمدی رکاوٹوں اور منڈی کے بے رحم نظام نے اس بمپر کراپ کو کاشتکاروں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا ہے۔

یہ بحران محض کسی ایک فصل کی قیمت گرنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی زراعت، دیہی معیشت اور کسان دشمن پالیسیوں کا ایک ایسا المیہ ہے جس کے اثرات انے والے کئی برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ مالی سال 25-2024 کے دوران آلو کی پیداوار سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک نے 6.8 ملین ٹن کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 9.9 ملین ٹن آلو پیدا کیا جو کہ ہدف سے 44.7 فیصد زیادہ ہے۔

اس شاندار اضافے کی بڑی وجہ زیرِ کاشت رقبے میں ہونے والا 41 فیصد اضافہ ہے جو 2 لاکھ 68 ہزار ہیکٹر سے بڑھ کر 3 لاکھ 78 ہزار ہیکٹر تک جا پہنچا۔ خاص طور پر پنجاب نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا جہاں پیداوار ہدف سے 45.2 فیصد زائد رہی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی پیداوار میں بالترتیب 31.3 فیصد اور 27.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کسانوں کی محنت اور موزوں موسمی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس محنت کا ثمر کسان کے بجائے مڈل مین اور بحرانی کیفیت کی نذر ہو رہا ہے۔

موجودہ معاشی تناظر میں آلو کے کاشتکار کو درپیش نقصان کسی جذباتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ واضح مالی حقائق پر مبنی ہے۔ آج ایک ایکڑ آلو کی کاشت پر اوسطاً دو سے تین لاکھ روپے کے........

© Daily Urdu (Blogs)