Touq Ul Hamama

دنیا کی بعض کتابیں محض پڑھی نہیں جاتیں، محسوس کی جاتی ہیں۔ ان کے لفظ کاغذ پر نہیں، دل کے کسی نرم گوشے پر ثبت ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک لازوال اور سحر انگیز کتاب "طوقُ الحمامہ فی الألفۃ والأُلّاف" ہے، جو صدیوں کے فاصلے طے کرنے کے باوجود آج بھی انسانی جذبات کی سب سے سچی اور گہری ترجمان محسوس ہوتی ہے۔ اس کتاب کا نام ہی اپنے اندر ایک عجیب شعری کیفیت اور روحانی رمز رکھتا ہے۔ عربی زبان میں "طوق" اس ہار یا حلقے کو کہتے ہیں جو گلے میں ڈالا جائے، لیکن ادب کی دنیا میں یہی لفظ اس تعلق اور وابستگی کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو انسان کے وجود کا ایسا حصہ بن جائے کہ اس سے رہائی ممکن نہ رہے۔

"حمامہ" کبوتر یا قمری کو کہتے ہیں اور عربوں نے خاص طور پر اس خوبصورت دائرے کو "طوق الحمامہ" کہا جو بعض کبوتروں کے گلے کے گرد قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔ یہ دائرہ اس پرندے کی پیدائش سے لے کر موت تک اس کے وجود کا حصہ رہتا ہے، کبھی جدا نہیں ہوتا۔ امام ابن حزم اندلسیؒ نے اسی منظر کو محبت کے استعارے کے طور پر اختیار کیا کہ عشق بھی انسان کی روح کے گرد ایسے ہی لپٹ جاتا ہے جیسے کبوتر کے گلے کا وہ دائمی طوق، جو عمر بھر ساتھ رہتا ہے اور کبھی اترتا نہیں۔

یہ کتاب پانچویں صدی ہجری کے عظیم اندلسی عالم، فقیہ، فلسفی اور ادیب امام ابن حزم اندلسیؒ نے تحریر فرمائی۔ اندلس اُس زمانے میں علم، تہذیب، حسن، موسیقی، ادب اور فکر کا ایک درخشاں مرکز تھا۔ قرطبہ، غرناطہ اور اشبیلیہ جیسے شہر صرف عمارتوں اور باغوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ذہانت،........

© Daily Urdu (Blogs)