Kasb e Kamal Kun: Waddi Maa |
کسبِ کمال کُن: "وڈی ما"
كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوے
كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!
دیہات کی زندگی میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف انسان نہیں ہوتیں بلکہ پورے گھر، پورے خاندان اور کبھی کبھی پورے ماحول کی روح بن جاتی ہیں۔ ان کی موجودگی سے گھر میں ایک عجیب سا اطمینان رہتا ہے، جیسے کسی درخت کی گھنی چھاؤں میں بیٹھے ہوں۔ میری زندگی میں ایسی ہی ایک عظیم ہستی "وڈی ما" تھیں۔ ان کا اصل نام "سیس بانو" تھا لیکن ہمارے لیے وہ صرف "وڈی ما" تھیں۔ "ما" کے بعد اگر کسی وجود نے ہمیں سب سے زیادہ محبت، تحفظ، شفقت اور اپنائیت دی تو وہ انہی کی ذات تھی۔ ان کی آواز بلند تھی، گفتگو میں دبدبہ تھا اور گھر کے کسی فرد کو ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنے کی جرات نہ ہوتی تھی، لیکن یہی سخت لہجہ جب ہم بچوں کے لیے نرم پڑتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے پتھروں کے بیچ سے کوئی میٹھا چشمہ پھوٹ پڑا ہو۔ وہ ہمیں بے پناہ چاہتیں، ہر وقت ہمارا خیال رکھتیں اور ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو اپنی خوشی سمجھتی تھیں۔ میری "ما" کے ساتھ ان کا تعلق بھی بڑا خوبصورت تھا۔ دونوں دیر تک اکٹھی بیٹھتیں، باتیں کرتیں، دکھ سکھ بانٹتیں اور اگر گھر میں کوئی پریشانی آ جاتی تو "وڈی ما" بڑے حوصلے اور دانائی سے تسلی دیتیں۔ ان کے وجود میں ایک عجب اعتماد تھا، جیسے وہ ہر مشکل کا سامنا کرنا جانتی ہوں۔
"وڈی ما" محنت کی جیتی جاگتی تصویر تھیں۔ آج کی نسل شاید تصور بھی نہ کر سکے کہ اُس دور کی دیہاتی عورتیں کس قدر مشقت کرتی تھیں۔ وہ کھیتی باڑی کرتیں، جانور پالتیں، گائے، بیل اور بکریاں ان کے گھر کا حصہ تھے۔ مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ بھیڑیں نہیں رکھتی........