John Buchanan Aur Philip Lal |
کوچنگ اور مینٹورشپ کی دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بولتے کم ہیں مگر ان کا اثر گہرا ہوتا ہے۔ وہ لمحہ بھر کی داد سے زیادہ دیرپا تربیت پر یقین رکھتے ہیں۔ جان بکانن اور فلپ لال اسی قبیل کے لوگ تھے۔ دونوں کا میدان مختلف تھا۔ ایک کرکٹ کا، دوسرا کارپوریٹ اور مینجمنٹ ٹریننگ کا۔ مگر انداز ایک جیسا، خاموش مشاہدہ، گہرا تجزیہ اور بروقت، جامع رہنمائی۔ ان کی کہانیاں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ حقیقی کوچنگ کا کمال شور میں نہیں، خاموشی میں ہوتا ہے، وقتی حوصلہ افزائی میں نہیں، دیرپا بہتری میں ہوتا ہے۔
سن دو ہزار میں آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے کوچ جان بکانن تھے، جنہوں نے 1999 کے اواخر میں ذمہ داری سنبھالی اور اس کے بعد ٹیم کو تاریخ کے سنہری دور سے گزارا۔ اس عرصے میں آسٹریلیا نے نہ صرف ورلڈ کپ جیتے بلکہ ایشز سیریز میں بھی فتح حاصل کی اور اس تمام عروج کے دوران اسٹیو وا اس غالب ٹیم کے کپتان رہے۔ جان بکانن کا اندازِ کوچنگ روایتی نہیں تھا۔ وہ نیٹس میں کھلاڑیوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے، خاموشی سے نوٹس لیتے، کبھی لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتے، مگر میدان یا پریکٹس کے دوران شاذ ہی کوئی ہدایت دیتے۔ نہ تعریف میں جلدی، نہ تنقید میں عجلت۔ بس مشاہدہ، صبر اور گہرا تجزیہ۔ پھر جب دن ختم ہوتا اور سب کھلاڑی ہوٹل واپس آتے تو ہر ایک کو ایک ای میل موصول ہوتی۔ ایسی ای میل جس میں اُس دن میدان اور نیٹس میں ہونے والی ہر اہم بات درج ہوتی۔ کہاں........