Federalist Paper Number 51, Ikhtiyarat Ka Tawazun Aur Ehtesab |
فیڈرلسٹ پیپر نمبر 51، اختیارات کا توازن اور احتساب
انسانی تاریخ کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ انسان آزادی بھی چاہتا ہے اور طاقت بھی۔ وہ خود پر کسی کی بالادستی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا لیکن جب اسے اقتدار مل جائے تو دوسروں پر اپنی مرضی نافذ کرنے میں کوئی تامل محسوس نہیں کرتا۔ یہی وہ انسانی کمزوری ہے جس نے صدیوں سے فلسفیوں، قانون دانوں اور ریاستی مفکرین کو پریشان کیے رکھا۔ آخر ایسا نظام کیسے قائم کیا جائے جس میں حکومت بھی موجود ہو اور آزادی بھی محفوظ رہے؟
ریاست اتنی مضبوط بھی ہو کہ نظم و نسق قائم رکھ سکے اور اتنی محدود بھی ہو کہ شہریوں کے حقوق نہ نگل جائے۔ اٹھارہویں صدی میں جیمز میڈیسن نے اسی سوال کا جواب اپنے مشہور مضمون "فیڈرلسٹ نمبر 51" میں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ یہ مضمون محض امریکی آئین کی تشریح نہیں بلکہ اقتدار کی فطرت پر ایک گہرا فلسفیانہ غور و فکر ہے۔ میڈیسن نے ایک ایسی حقیقت بیان کی جو آج بھی اتنی ہی سچی ہے جتنی دو سو برس پہلے تھی۔ اس نے لکھا کہ اگر انسان فرشتے ہوتے تو حکومت کی ضرورت نہ ہوتی اور اگر حکمران فرشتے ہوتے تو حکومت پر کسی نگرانی یا احتساب کی ضرورت نہ ہوتی۔ لیکن چونکہ نہ عوام فرشتے ہیں اور نہ حکمران، اس لیے ایک ایسا نظام درکار ہے جو انسانی کمزوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اقتدار کو حدود کا پابند بنائے۔
میڈیسن کی اصل بصیرت یہ تھی کہ اقتدار کو محض نیک نیتی کے سہارے محدود نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں بے شمار حکمران ایسے گزرے ہیں جنہوں نے ابتدا میں عدل، دیانت اور خدمت کے دعوے کیے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اقتدار کی کشش ان پر غالب آ گئی۔ اقتدار ایک ایسی قوت ہے جو اپنی فطرت میں وسعت........