Falsafa, Science Aur Quran

فلسفہ، سائنس اور قرآن

انسان جب سے شعور کی نعمت سے بہرہ مند ہوا ہے، اس کے ذہن میں چند بنیادی سوالات مسلسل گردش کرتے رہے ہیں۔ یہ کائنات کہاں سے آئی؟ اس کا آغاز کیسے ہوا؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوتا ہے؟ اور کیا اس وسیع و عریض عالمِ ہستی کے پس پردہ کوئی حکمت، کوئی منصوبہ اور کوئی خالق موجود ہے؟ انہی سوالات نے فلسفے کو جنم دیا، سائنس کو آگے بڑھایا اور انسان کو آسمانوں اور زمین کی وسعتوں میں غور و فکر پر آمادہ کیا۔

صدیوں تک فلسفی اپنی عقل کے سہارے ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے رہے، سائنس دان تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں کائنات کے اسرار کھولنے کی کوشش کرتے رہے، جبکہ انبیائے کرام علیہم السلام وحیِ الٰہی کے ذریعے انسان کو حقیقتِ کائنات سے آگاہ کرتے رہے۔ آج بھی یہی سوالات انسان کے سامنے موجود ہیں اور جدید دور کی تمام علمی ترقیوں کے باوجود ان کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ایسے ماحول میں بعض کتابیں محض مطالعے کا سامان نہیں ہوتیں بلکہ فکر و نظر کے نئے در وا کرتی ہیں۔ الشیخ ندیم الجسر کی کتاب "فلسفہ، سائنس اور قرآن" بھی انہی نادر کتابوں میں شمار ہوتی ہے جو قاری کو علم اور ایمان کے درمیان ایک دلکش اور متوازن پل فراہم کرتی ہے۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے عقل اور وحی کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرنے کے بجائے انہیں ایک دوسرے کا معاون اور مؤید ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ جدید دنیا میں ایک عرصے تک یہ تصور عام رہا کہ مذہب اور سائنس ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یورپ کی تاریخ میں کلیسا اور سائنس دانوں کے درمیان کشمکش نے اس........

© Daily Urdu (Blogs)