Bad Qismat Turkey Zuban
مولانا روم کے مزار پر کھڑے ہو کر ایک عجیب سی اداسی دل میں اترتی ہے۔ وہ اداسی جو صرف تاریخ پڑھ لینے سے نہیں آتی بلکہ تاریخ کے کتبوں کے سامنے خاموش کھڑے رہنے سے جنم لیتی ہے۔ قونیہ میں یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ رسم الخط کی تبدیلی ترکوں کے لیے محض تعلیمی یا انتظامی فیصلہ نہیں تھی، یہ تہذیبی حافظے کی ایک بڑی قربانی تھی۔ مزاروں کے کتبے، خانقاہوں کی دیواریں، کتب خانوں کی الماریاں، سب کچھ موجود ہے مگر پڑھنے والی آنکھیں محروم ہیں۔ وہ زبان جو صدیوں تک عربی و فارسی رسم الخط میں سانس لیتی رہی، اچانک ایک نئے لباس میں ملبوس کر دی گئی اور یوں اپنی ہی تاریخ سے بیگانگی کا زخم اس کے حصے میں آیا۔
صدر اردوان نے جب کبھی اس احساس کو زبان دی اور یہ کہا کہ کم از کم اتنا تو ہو کہ ترک اپنے اجداد کی قبروں کے کتبے پڑھ سکیں، تو مقصد ماضی پرستی نہیں بلکہ تاریخی تسلسل کی بازیافت تھا۔ مگر مغرب کے شور و غوغا میں اس بات کو بھی ایک سیاسی خوف کے قالب میں ڈھال دیا گیا اور یہ الزام عائد کیا گیا کہ گویا عثمانی رسم الخط کی واپسی کا دروازہ کھل رہا ہے۔ حالانکہ یہ سادہ سی علمی حقیقت بھی نظر انداز کر دی گئی کہ وہ رسم الخط عثمانی نہیں بلکہ عربی و فارسی تھا، جو صدیوں تک پورے اسلامی مشرق کی مشترکہ علمی زبان کا وسیلہ........
