Arastu: Fikr, Fitrat Aur Falsafay Ki Darvesh |
ارسطو: فکر، فطرت اور فلسفے کا درویش
انسان نے جب شعور کی پہلی آنکھ کھولی تو سب سے پہلا سوال یہی تھا کہ میں کون ہوں؟ اور دوسرا سوال یہ کہ یہ دنیا کیا ہے؟ کچھ لوگ ان سوالوں سے گھبرا کر مذہب کی طرف چلے گئے، کچھ نے شاعری میں پناہ لی اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے دلیل، مشاہدے اور تجربے کے زینے چڑھ کر اِن سوالوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔ انہی میں سے ایک تھا ارسطو۔ ایک ایسا مفکر، جس کا دماغ ایک عالم کی طرح سوچتا تھا، ایک سائنسدان کی طرح مشاہدہ کرتا تھا اور ایک استاد کی طرح سکھاتا تھا۔ وہ نہ صرف یونان کا فکری اثاثہ تھا بلکہ آج تک پوری دنیا کے فکری افق پر ایک روشن ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔
ارسطو کا زمانہ چوتھی صدی قبل مسیح کا ہے۔ وہ مقدونیہ میں پیدا ہوا، جہاں اُس کا باپ شاہی طبیب تھا۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی، پھر اکیس سال کی عمر میں ایتھنز چلا گیا جہاں اس نے افلاطون کی اکیڈمی میں بیس سال گزارے۔ افلاطون کا فلسفہ اُس وقت یونان کا سب سے طاقتور علمی دھارا تھا اور ارسطو اس دھارے میں ایک باقاعدہ موج کی مانند شامل ہوگیا۔ مگر ارسطو وہ نہیں تھا جو کسی ایک فکر کا قیدی بنے، وہ سوال کرنے والا تھا، وہ پہلو بدلنے والا، وہ ہر نظریے کو پرکھنے والا اور سب سے بڑھ کر، وہ اپنی راہ خود بنانے والا تھا۔
ارسطو نے افلاطون سے سیکھا کہ خیالات ہر چیز کی اصل ہوتے ہیں، مگر وہ اس نظریے سے مطمئن نہیں ہوا۔ اُس نے کہا: نہیں، حقیقت صرف ذہن میں نہیں بلکہ باہر کی دنیا میں بھی ہے، اُس درخت میں بھی ہے جس کے نیچے تم بیٹھے ہو، اس پرندے میں بھی ہے جو اڑ رہا ہے اور اس مٹی میں بھی ہے........