Sunblock Cream
ہم ریت پر سٹار فش کی طرح پھیلے ہوئے تھے، پکے ہوئے مارشملو کی مانند، سورج اب ہم کو پسینے میں بھگو رہا تھا، دائیں طرف سے آواز آئی، تازہ گری ہوئی برف کی رنگت جیسی خوب صورت روسی لڑکی نے بڑی ادا سے سن بلاک کریم کی بوتل خرم کی طرف بڑھائی، یاد رہے کہ خرم کی رنگت کچھ مشکی سی ہے بلکہ آسان الفاظ میں کالی چرن جس کی رنگت شام کے پھیلتے اندھیرے کا مقابلہ کر سکتی ہے، روسی لڑکی دنیا کے سارے خلوص کو اپنے لہجے میں سمیٹ کر بولی "اسے اپنے چہرے پر لگاؤ"۔
ساحل سمندر پر سن بلاک کریم پیش کرنا اتنا ہی معمولی ہے جتنا کہ سمندری بگلے آپ کے ہاتھ سے کھانے کی چیز اچک لیتے ہیں، لیکن اس لمحے میں ہمیں ایک خراب صابن اوپیرا میں پلاٹ موڑ کی طرح محسوس ہوا، ہمارے قہقہے اس قدر جنگلی اور بے قابو ہوئے کہ گونج پورے ساحل پر سنائی دی، یہ قہقہے اتنے بلند و بالا تھے کہ مجھے شک گزرا کہ سمندری مخلوق کیکڑوں و سٹارفش سمیت سبھی نے ہمارے روئے زمین پر اتارے جانے کے فیصلے پر یا وہاں اپنی موجودگی کے انتخاب پر سوال ضرور اٹھایا ہوگا، ہر ذی روح نے سر گھما کر ہماری طرف دیکھا، گرچہ انہوں نے زبان سے کچھ نہ بولا لیکن مجھے یقین ہے کہ اس پرسکون ماحول کا اپنے قہقہوں سے اجاڑا کرنے پر یہ ضرور سوچا ہوگا "یا رب ان کو کیوں نازل کر دیا"، ان روسی لڑکیوں نے ناک پر سے چشمہ نیچے کھسکا کر ہماری طرف بغور دیکھا اور خاموشی سے ہماری اجتماعی عقل کا دوبارہ جائزہ لیا، اگر ہنسی اضافی کیلوریز جلاتی ہے تو ہم نے اس دن ساحل سمندر پر اپنی کیلوریز جلا کر اپنا وزن بہت کم کر لیا تھا۔
خرم عام طور پر کامیڈی کا بادشاہ اور خوش مزاج دوست ہے، اس نے سوئچ بدل کر ہماری "ہاہا" کو "ہاہرٹ" میں تبدیل کرنا چاہا، ہماری بے ضرر ہنسی اس کی مضحکہ خیز رنگت کو شارٹ سرکٹ کر چکی تھی، اس کا چہرہ غصے کے شاہکار میں........
