Shatranj Master Madni |
سیمی پلاٹنسک یونیورسٹی کی فضا میں پنجابی پٹھان، سینئر جونیئر کا لازوال ثقافتی تبادلہ یعنی جھگڑا، روزانہ کا ایسا سیریل تھا جس کا کوئی اختتام نہ تھا، یہ بات ڈھکی چھپی نہ تھی کہ اکثر سینئر حضرات بلاوجہ ہی اپنا اختیار استعمال کرتے تھے اور کبھی صرف اس لیے ڈانٹ دیا کہ ہمیں بھی کسی نے ڈانٹا تھا! یہ روایت نسل در نسل منتقل ہو رہی تھی، لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ یہی جونیئر جب اگلے سال سینئر بنتے تو اچانک ان کی یادداشت کمزور ہو جاتی اور وہی ڈائیلاگ، وہی انداز، وہی رعب، گویا کل تک مظلوم تھے، آج نظام کے رکھوالے بن گئے، اصل میں یونیورسٹی زندگی کا یہ مصالحہ تیکھا ضرور لگتا ہے مگر یادوں میں ہمیشہ ذائقہ چھوڑ جاتا ہے، ان سب عجوبوں میں ایک خوبصورت بات مشترک تھی، خواب! سب اپنی اپنی دنیا سے نکل کر یہاں آئے تھے، کچھ بننے، کچھ کرنے اور کچھ سیکھنے کے لیے، ہنسی مذاق، غلط انگریزی اور عجیب عادتوں کے باوجود، یہی لوگ بعد میں ایک دوسرے کا سہارا بنے، دوست بنے اور زندگی کے سنجیدہ موڑوں پر ساتھ کھڑے نظر آئے، ماسوائے پٹھان حضرات جو بلاوجہ پنجابیوں کے ساتھ الجھنا پیدائشی فرض سمجھتے تھے۔
سیمی یونیورسٹی کا سالانہ کرکٹ ٹورنامنٹ کوئی عام کھیل تماشہ نہیں ہوتا تھا، ہر ڈیپارٹمنٹ اپنی ٹیم کو ایسے پیش کرتا جیسے ورلڈ کپ جیتنے جا رہا ہو، قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ انجام ہمیشہ ایک ہی ہوتا، پنجاب الیون کی فتح! جیت کے بعد کپتان اظہر ستار فاتح جرنیل کی شان اپنا کر چلتے دکھائی دیتے، ہر قدم میں اعتماد، ہر گھماؤ میں غرور اور ہر چھلانگ میں یہ پیغام کہ کپ تو ہمارا ہی ہے۔
پنجاب الیون فائنل جیت کر واپس آئی تو ہوسٹل کے دروازے کے باہر حسبِ روایت ماحول اچانک میلہ مستانہ بن گیا، سینئرز پورے جوش میں ہُلڑ بازی کو ایک باقاعدہ فن کا درجہ دے رہے تھے، اظہر ستار اس ساری محفل کے روحِ رواں تھے، ایک ہاتھ میں کپ، دوسرے ہاتھ سے ہوا میں اشارے اور........