Patang Bazi Aur Pulao Wala Pateela |
پتنگ بازی اور پلاؤ والا پتیلا
ہماری نسل کے تقریباً ہر فرد کے بچپن میں دو چیزیں مشترک تھیں: گرمیوں کی چھٹیاں اور تپتی دوپہر میں چھتوں پر پتنگ بازی، ہر محلے میں چند ایسے لوگ ضرور ہوتے تھے جو خود کو پتنگ بازی کا سلطان سمجھتے تھے اور بچے اُنہیں ایسے عزت دیتے جیسے آج لوگ یوٹیوبر کو دیتے ہیں، ایسی ہی ایک یادگار داستان میرے پتنگ باز پارٹنر ڈاکٹر رانا حمید صاحب سے منسوب ہے، موصوف رشتے میں میرے والد کے سگے ماموں زاد، بجلی محلہ کی ایک ہی گلی میں ہمارے گھر اور عمر میں مجھ سے چند سال بڑے ہونے کے باعث سینئر پارٹنر بھی تھے۔
میری ذمہ داری بڑی اہم نوعیت کی ہوتی تھی، گھر سے ملنے والے جیب خرچ میں سے پیسے بچانا، پھر حمید کے ہمراہ گوجرانوالہ روڈ پر واقع پان شاپ والی دکان سے سامان خریدنا، چہرے پر ایسا رعب ہوتا جیسے ہزاروں کا سودا کر رہے ہوں، حمید صاحب کے ذمے زیادہ تکنیکی کام ہوتے تھے، پانی گرم کرکے مانجھا تیار کرنا، شیشہ پیسنا، لیئی بنانا اور ڈور کو ایسے مہارت سے تیار کرنا کہ مخالف کی پتنگ دیکھتے ہی کانپ اٹھے، وہ مانجھا بناتے وقت اتنی سنجیدگی اختیار کرتے کہ مجھے کئی بار شک گزرتا کہ شاید مستقبل میں ڈاکٹر نہیں بلکہ کوئی سائنسدان بنیں گے، کبھی کبھی تو اُن کے چہرے کے تاثرات ایسے ہوتے جیسے ایٹم بم کی تیاری جاری ہو۔
پھر وہ تاریخی لمحہ آتا جب ہم چھت پر مورچہ سنبھالتے، محلے کے بچے، چھتوں پر پھوپھیاں اور خالائیں اور آس پاس کے تماشائی سب آسمان کی طرف نظریں جمائے ہوتے، حمید صاحب پتنگ میں تلاویں ڈال کر بڑے فاتحانہ انداز میں مجھے حکم دیتے، "اوئے، پتنگ پکڑ، ذرا دور جا کے ہوا میں چھوڑ!" میں بھی اُس زمانے میں خود کو بین الاقوامی پتنگ باز ٹیم کا جونیئر کھلاڑی سمجھتا تھا، پتنگ ہاتھ میں پکڑ کر پوری سنجیدگی سے چھتوں پر دوڑ لگاتا، پھر مناسب ہوا دیکھ کر اسے فضا میں اچھال دیتا، اُدھر حمید صاحب چرخی سنبھالے ایسے کھڑے ہوتے جیسے جنگی جہاز کے پائلٹ........