Pardes Ik Aaina

روس میں پڑھائی چھوڑ کر سعودی عرب آنا بعض مورخین ایسا دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہیں جس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے، بہرحال سعودی عرب آ کر جن حالات، سماجی رویوں، عوامل اور موسمی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا، ان سب نے میرے چودہ طبق روشن کر دیئے، کئی مرتبہ دل نے کہا کہ یہاں سے بھاگ چلو مگر جیب نے ہر مرتبہ کالر سے پکڑ کر بٹھا دیا، یوں اک عظیم فرار کی تمام انقلابی تحریکیں معاشی مجبوری کے تھانے میں دم توڑتی رہیں۔

پہلے دن ابا جی نے مجھے نصیحت فرمائی: "انڈسٹریل ایریا میں کسی سے دوستی مت کرنا"۔ سوچا کہ کیا وہاں انسان نہیں، صرف خطرناک جانور بستے ہیں؟ بہرحال کافی عرصے تک اس نصیحت پر عمل کیا جیسے انڈسٹریل ایریا میں وبا پھیلی ہو، چند دن بعد کچھ دوست آ گئے: "چلو، آج پاکستان اور انڈیا دا میچ ڈش انٹینا تے ویکھدے آں"۔ ان کے ہمراہ چل دیئے، انڈسٹریل ایریا میں قدم رکھتے ہی مجھے لگا جیسے میں کسی اور ہی سیارے پر آ گیا ہوں، ہر ورکشاپ سے مختلف آوازیں، ہر دکان سے الگ خوشبو، ہر چہرے پر محنت کی گرد اور ہر زبان پر اپنا اپنا لہجہ، بات دلیل سے شروع ہوتی، آواز اونچی ہوتی، پھر دلیل کہیں پیچھے رہ جاتی اور آواز اکیلی دوڑتی رہتی، کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں اگر آپ کہتے کہ آج جمعرات ہے تو وہ صرف مخالفت برائے مخالفت میں کہتے: "نہیں۔۔ ثابت کرو!" اور اگر آپ کیلنڈر بھی سامنے رکھ دیتے تو جواب ملتا: "کیلنڈر پرے کر۔۔ جو اکھاڑ سکتے ہو، اکھاڑ لو!" ایسا رویہ سیمی پلاٹنسک میں افغان و پٹھان کا دیکھا تھا لیکن اس کی وجہ پنجاب کا بغض تھا، میں، جو ابھی چند ہفتے پہلے تک روس میں لائبریریوں کی خاموشی اور پروفیسروں کے لیکچر سننے والا ایک کتابی لڑکا تھا، سوچ رہا تھا کہ یا اللہ! یہ کون سا نیا نصاب ہے جس میں ہر اختلاف کا آخری باب........

© Daily Urdu (Blogs)