Ikka Review |
ایک اچھی فلم کی کہانی ہمیشہ اپنے نقش چھوڑ جاتی ہے، کورٹ روم، کلاس روم نہیں ہوتا، وہاں دلائل صرف اس لیے قبول نہیں کیے جاتے کہ وہ بلند آواز میں پیش کیے گئے ہیں اور انصاف محض اس بنیاد پر نہیں ملتا کہ وکیل نے ہر دوسرے جملے کے بعد "میں اعتراض کرتا ہوں" کہہ دیا، عدالت میں انصاف حاصل کرنے کے لیے قانون، دلیل، ثبوت اور حکمتِ عملی، چاروں کا درست استعمال ضروری ہوتا ہے، ایک اچھا وکیل کورٹ روم میں آنکھیں اور کان کھول کر سنتا اور دیکھتا ہے، مخالف وکیل کے پیش کردہ ثبوت کو اعتراض کے ترازو میں تولنے کے بجائے قانونی حیثیت کو جانچنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ ہر ثبوت، عدالتی ثبوت نہیں ہوتا، بظاہر مضبوط دکھائی دینے والا ثبوت بھی اگر قانونی معیار، طریقۂ پیشکش، قابلِ قبولیت یا شہادت کے تقاضوں پر پورا نہ اترتا ہو تو ایک ماہر وکیل اسے اسی مقام پر چیلنج کر سکتا ہے جہاں اس کی بنیاد کمزور ہو، بعض اوقات ایک مختصر سوال، ایک درست قانونی نکتہ یا ایک بروقت اعتراض، لمبی تقریر سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے، کیونکہ عدالت آواز کی بلندی سے نہیں، دلیل کی مضبوطی سے قائل ہوتی ہے، مقرر بولنے کا موقع تلاش کرتا ہے، وکیل فیصلہ کن نکتہ تلاش کرتا ہے۔
فلم کا بنیادی مقدمہ ایک بگڑا امیرزادہ نشے میں دھت ہو کر ایک لڑکی کو اپنی گاڑی میں نا چاہتے ہوئے قتل کر دیتا ہے اور اپنی دولت، اثر و رسوخ اور قانونی موشگافیوں کے بل بوتے پر بچ نکلنے کا منصوبہ بناتا ہے اور ثبوت کو شکست دینے کے لیے ایک ماہر وکیل کی ضرورت ہے، دوسری طرف خاتون وکیل استغاثہ کے کیریئر پر کسی بڑے مقدمے کی فتح کا تمغہ نہیں لیکن جذباتی نعروں یا بلند بانگ دعووں کے بجائے ایک ایک کڑی تلاش کرتی، گواہوں تک پہنچتی، شواہد اکٹھے کرتی ہے، فلم کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہر ثبوت کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مقدمہ ختم ہوگیا ہے، کبھی وکیل صفائی قانونی سقم تلاش کر لیتا ہے، کبھی گواہی مشکوک، کبھی ثبوت ناقابلِ قبول قرار پانے کے قریب، یوں عدالت میں جیت اور ہار کا پلڑا بار بار بدلتا ہے۔
لیڈی وکیل استغاثہ کا مقصد مقدمہ جیتنا نہیں بلکہ........