Kuch Manzar Yaad Nahi Aate, Laut Aate Hain
کچھ منظر یاد نہیں آتے، لوٹ آتے ہیں
کبھی کبھی انسان کسی منظر کو دیکھتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اسے پہلے بھی کہیں دیکھ چکا ہے۔ یہ احساس محض مانوسیت کا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ یادوں کی ایک پوری دنیا چلی آتی ہے۔ آدمی حال میں موجود ہوتا ہے، مگر اس کا ذہن اسے کسی ایسے زمانے میں لے جاتا ہے جس کی طرف واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ پھر وہ یہ فیصلہ بھی نہیں کر پاتا کہ جو کچھ اس وقت محسوس ہو رہا ہے، وہ ماضی کی یاد ہے، کسی بھولی ہوئی کیفیت کی بازگشت ہے یا محض ایک عجیب سا اتفاق۔
آج رات بھی میرے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں مال روڈ پر واقع دیال سنگھ مینشن کی بالائی منزل پر بیٹھی رات کی چائے پی رہی تھی۔ سامنے سڑک پر زندگی اپنی پوری رفتار سے رواں تھی۔ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ایک طرف سے گزر رہی تھیں، لوگ پیدل چل رہے تھے اور سڑک کی دوسری سمت سے آتی ٹریفک بھی اپنے معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ روشنیوں کے اس ہجوم میں، جہاں ہر شخص اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا، میری نگاہ اچانک ایک منظر پر جا ٹھہری۔
میں روز یہاں سے گزرتی ہوں۔ اکثر اسی عمارت میں بیٹھتی بھی ہوں، مگر آج اس منظر کو دیکھنے کا زاویہ کچھ اور تھا۔ شاید رات کی تاریکی تھی، شاید سڑک کی روشنیاں تھیں یا شاید میرے اندر کوئی ایسی یاد جاگنے والی تھی جس سے میرا شعوری ذہن ابھی تک بے خبر تھا۔
اسی دوران کسی گاڑی کی تیز روشنیاں روشن ہوئیں۔ چند لمحوں کے لیے ان کی روشنی نے عمارت، درختوں اور ان کی پھیلی ہوئی شاخوں کو ایک نئے انداز سے نمایاں کر دیا۔ درختوں کے سائے یوں محسوس ہوئے جیسے کسی........
