Oxford University Museum (2)

نیچرل سائنس میوزیم دیکھنے کے بعد جب ہم باہر نکلے تو بارش تھم چکی تھی، ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، خوشگوار موسم میں یونیورسٹی کا کیمپس اور بھی خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔ ہم پیدل چلتے ہوئے یونیورسٹی کے چرچ والے مین کیمپس کے قریب پہنچ گئے، وہاں ہم نے ایک جگہ دیکھا کہ کچھ بزرگ اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آٹھ آٹھ دس دس کا گروپ بنا کر ایک چھوٹے سے سٹیج کے سامنے بیٹھے تھے اور ان میں سے بزرگوں کا ایک گروپ پرفارم کر رہا تھا اور ہم جیسے بہت سے سیاح انہیں دیکھ رہے تھے۔

ان کا لباس کچھ ایسے تھا جیسے ہمارے ہاں شادی بیاہوں پر بینڈ والوں کے ہوتے ہیں۔ ان کے پاؤں میں گھنگرو تھے اور ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی چھڑیاں جو رقص کے دوران وہ ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا رہے تھے۔ اس گروپ میں میں نے ایک بزرگ تقریباََ 80 سال اور ایک بڑھیا 70 سال کہ لگ بھگ دیکھی، وہ دونوں بھی رقص سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ مختلف بینڈز دراصل یونیورسٹی کے اولڈ اسٹوڈنٹس ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے گروپس بنا رکھے ہیں جو یونیورسٹی کے کسی بھی ایونٹ پر پرفارم کرکے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ مختلف میوزیکل بینڈز سکاٹ لینڈ، ویلز اور لندن سے تھے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں موجودہ پڑھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا بھی ایک گروپ تھا۔ 70,80 سال کے وہ گورے اور گوریاں دنیا سے بے فکر اپنی زندگی انجوائے کر رہے تھے بنا یہ سوچے کوئی کیا کہے گا۔ ہم نے وہاں آدھا گھنٹہ گزارا، ان کے ساتھ تصاویر بنائیں اور اس کے بعد یونیورسٹی کہ مین کیمپس میں داخل ہوئے جس میں چرچ بھی موجود ہے۔ وہ کیمپس اتنا خوبصورت تھا کہ اسے میں لفظوں میں بیان........

© Daily Urdu (Blogs)