menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Malakwal Se New York Tak (1)

25 0
20.09.2026

ملکوال سے نیویارک تک (1)

نیویارک کے اس سفر کی روداد شروع کرنے سے پہلے مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذرا پیچھے مڑ کر اپنے ان سفروں کا ذکر بھی کرتا چلوں جو امریکہ جانے سے پہلے میرے حصے میں آئے۔ دراصل دنیا کے مختلف ممالک کی سیاحت نے نہ صرف میری نگاہ کو وسعت دی بلکہ مجھے مختلف معاشروں، تہذیبوں، ثقافتوں اور انسانوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ شاید یہی وہ سفر تھے جنہوں نے رفتہ رفتہ میرے لیے امریکہ جانے کی راہ بھی ہموار کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے ان میں سے کسی بھی سفر کی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ نہ کوئی طویل مدتی سفری نقشہ میرے سامنے تھا اور نہ ہی میں نے کبھی یہ طے کیا تھا کہ زندگی میں فلاں فلاں ملک ضرور دیکھنا ہے۔ بس یوں سمجھیے کہ مواقع خود بنتے گئے، راستے کھلتے گئے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مجھے ایک کے بعد ایک نئی سرزمین دیکھنے کا موقع عطا فرماتا گیا۔ میں نے ان مواقع کو غنیمت جانا، سفر اختیار کیا اور ہر نئی جگہ سے کچھ نہ کچھ سیکھتا چلا گیا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سفر کرنے یا بیرونِ ملک جانے کا شوق مجھے کبھی بچپن سے نہیں تھا، حالانکہ میرے دونوں بھائی بیرونِ ملک مقیم رہے۔ میری دلچسپی کا مرکز ہمیشہ کچھ اور رہا۔ مجھے شروع ہی سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا اور پڑھے لکھے لوگ مجھے ہمیشہ متاثر کرتے رہے۔ شاید بچپن میں ہر بچہ کسی نہ کسی شخصیت، کردار یا مشاہدے سے متاثر ہو کر اپنے مستقبل کا کوئی نہ کوئی خواب بناتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ میں جب پاکستان ٹیلی وژن پر کسی ڈرامے میں کسی پڑھے لکھے نوجوان کا کردار دیکھتا تو وہ مجھے بہت اچھا لگتا۔ کسی تعلیم یافتہ شخصیت کا انٹرویو نشر ہوتا تو میں اسے بڑے غور اور توجہ سے سنتا۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ علم انسان کو دوسروں سے مختلف بناتا ہے، اس کے اندازِ گفتگو، سوچ اور رویے میں ایک خاص وقار پیدا کر دیتا ہے۔

بابا اشفاق احمد کا پی ٹی وی پر پروگرام "زاویہ" نشر ہوتا تھا۔ میں اسے بڑی دلچسپی اور توجہ سے سنتا تھا۔ اسی طرح طارق عزیز شو، یعنی "نیلام گھر" بھی ہمارے بچپن کی یادوں کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ اس پروگرام کا سوال و جواب کا مرحلہ مجھے خاص طور پر پسند تھا۔ دلچسپ اتفاق ہے کہ "نیلام گھر" اور میری پیدائش بھی تقریباً ایک ہی زمانے میں ہوئی، میں یکم نومبر کو پیدا ہوا، جبکہ "نیلام گھر" کا آغاز 4 نومبر 1975ء کو ہوا۔

اپنے اردگرد بھی جب کوئی شخص تعلیم کے شعبے سے وابستہ نظر آتا تو مجھے اس کی شخصیت میں ایک خاص کشش محسوس ہوتی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بچپن ہی سے میرے اندر تعلیم، مطالعے اور علم سے محبت کا جذبہ جڑ پکڑتا چلا گیا۔

بی ایس سی کے بعد تدریس کے شعبے میں آنے کے پیچھے بھی دراصل وہی شخصیات تھیں جن سے میں خود پڑھتا رہا، جن سے بہت کچھ سیکھا اور جنہوں نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ تدریس ہی وہ میدان ہے جس سے میں سب سے زیادہ متاثر ہوں اور شاید اسی شعبے میں رہ کر میں اپنے علم، تجربے اور مشاہدات کو دوسروں تک منتقل کر سکتا ہوں۔ کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں رسمی تعلیم کے ساتھ جب میں نے اخبارات کا مطالعہ شروع کیا تو جاوید چوہدری کے کالمز نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ ان کی تحریروں سے مجھے بہت سی ایسی باتیں سیکھنے کو ملیں جو ہماری نصابی کتابوں میں عموماً نہیں ملتیں۔ انہی کے ایک کالم میں، اگر مجھے درست یاد ہے، میں نے ایک چینی کہاوت پڑھی کہ انسان کو زندگی میں کم از کم دس ہزار میل کا سفر کرنا چاہیے اور ایک ہزار کتابیں پڑھنی چاہئیں۔

پھر کسی اور کالم میں یہ جملہ پڑھنے کو ملا کہ "دنیا سب سے بڑی یونیورسٹی ہے"۔ اگر آپ........

© Daily Urdu (Blogs)