menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kon Apna Hai, Kon Paraya?

37 0
04.10.2026

کون اپنا ہے، کون پرایا؟

کبھی کبھی انسان کو دشمن سے اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا اُس شخص سے پہنچتا ہے جسے وہ اپنا سمجھ کر اپنے گھر کی دہلیز تک لے آتا ہے۔ دشمن کی پہچان آسان ہوتی ہے، مگر مفاد کے لباس میں چھپا ہوا دوست پہچاننا مشکل۔ وہ آپ کے دکھ میں آنسو بہاتا ہے، آپ کی کامیابی پر تالیاں بجاتا ہے، آپ کے نام کی تعریفیں کرتا ہے، لیکن اس کی نظر آپ کی ذات پر نہیں، آپ کی افادیت پر ہوتی ہے۔ جب تک آپ اس کے کسی کام کے ہیں، آپ اس کے لیے دنیا کے بہترین انسان ہیں۔ جس دن آپ کے ہاتھ خالی ہوئے، اس کی یادداشت بھی خالی ہو جاتی ہے۔ ہماری معاشرتی زندگی میں ایک عجیب روایت جڑ پکڑ چکی ہے۔ کسی کے پاس کچھ مالی وسعت ہو، تعلقات ہوں، اثر و رسوخ ہو یا لوگوں کے کام نکالنے کی صلاحیت ہو تو اچانک اس کے گرد مخلص لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ فون زیادہ آنے لگتے ہیں، ملاقاتیں بڑھ جاتی ہیں، محبت کے دعوے ہونے لگتے ہیں اور برسوں پرانے تعلقات اچانک زندہ ہو جاتے ہیں۔ بچپن کا ساتھی، دور کا رشتہ دار، پرانا کلاس فیلو، حتیٰ کہ وہ شخص بھی جسے آپ نے برسوں سے نہیں دیکھا ہوتا، اچانک آپ کو اپنا "جگری دوست" ثابت کرنے لگتا ہے۔ مگر کیا یہ تعلق واقعی محبت کا ہے یا ضرورت کا؟ کیا ہم انسان کو دیکھتے ہیں یا اس کی جیب، عہدے، تعلقات اور اثر کو؟

مفاد پرستی کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ہمیشہ بدصورتی کے چہرے کے ساتھ نہیں آتی۔ کبھی یہ خوش اخلاقی بن کر آتی ہے، کبھی ضرورت مندی بن کر، کبھی پرانی دوستی کا حوالہ بن کر اور کبھی جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے۔ کوئی اپنی بیماری کا دکھڑا سنائے گا، کوئی بچوں کی فیس کا مسئلہ بتائے گا، کوئی کاروباری نقصان کا ذکر کرے گا اور کوئی ایسی سرمایہ کاری کا خواب دکھائے گا جس میں چند ماہ میں رقم دوگنی ہونے کا وعدہ ہوگا۔ انسان جب دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ لیتا ہے تو احتیاط کی دیواریں خود ہی گرا دیتا ہے۔ یہی........

© Daily Urdu (Blogs)