Pakistan Ka Agla Digital Moqa
پاکستان کا اگلا ڈیجیٹل موقع
میرے کالم ("پاکستان کا ڈیجیٹل ایمرجنسی پلان۔۔ " 15 جون)۔ پر کئی دلچسپ تبصرے موصول ہوئے۔ ایک سوال تقریباً ہر جگہ دہرایا گیا: اگر پاکستان واقعی ایک قومی ڈیجیٹل اسکلز ایمرجنسی نافذ کرے تو آخر نوجوانوں کو کن مہارتوں کی تربیت دی جائے؟ کیا سب کو سافٹ ویئر انجینئر یا مصنوعی ذہانت (AI) کا ماہر بنانا مقصود ہے؟
یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر پاکستان کی ڈیجیٹل حکمتِ عملی کا شاید سب سے اہم سوال بھی یہی ہے۔
میرا جواب دو لفظوں میں ہے: ہرگز نہیں۔
پاکستان اگر عالمی ڈیجیٹل معیشت کو صرف پروگرامرز کی منڈی سمجھتا رہا تو وہ اپنے سب سے بڑے موقع کو خود ضائع کر دے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو صرف کوڈ لکھنے والے افراد کی ضرورت نہیں۔ دنیا کو اس سے کہیں زیادہ تعداد میں ایسے تربیت یافتہ لوگوں کی ضرورت ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے اس پورے نظام کو چلائیں، سنبھالیں، محفوظ رکھیں، جانچیں اور صارفین تک پہنچائیں۔
ایک جدید ٹیکنالوجی کمپنی پر نظر ڈالیں۔ وہاں چند سوفٹ ویئر آرکیٹیکٹس ضرور ہوتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ کہیں زیادہ تعداد میں سافٹ ویئر ٹیسٹرز، ٹیکنیکل سپورٹ انجینئرز، کلاؤڈ آپریشنز کے ماہرین، نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹرز، سائبر سکیورٹی اینالسٹس، ڈیٹا آپریشنز اسپیشلسٹس۔
Enterprise Resource Planning اور Customer Relationship Management ایڈمنسٹریٹرز، کسٹمر سکسیس مینیجرز Customer Success Professional، پروجیکٹ کوآرڈینیٹرز، ٹیکنیکل رائٹرز اور درجنوں دوسرے پیشہ ور افراد بھی........
