Naye Soobay Ya Naya Samaji Muahida?
نئے صوبے یا نیا سماجی معاہدہ؟
پاکستان میں ایک مرتبہ پھر یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا موجودہ صوبے بہت بڑے ہو چکے ہیں اور انہیں مزید صوبوں یا انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر دینا چاہیے؟ بظاہر یہ ایک انتظامی سوال ہے۔ لیکن ذرا گہرائی میں جائیں تو یہ سوال صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کا نہیں بلکہ اقتدار، اختیار، وسائل اور شہری کے درمیان تعلق کا سوال ہے۔
نئے صوبوں کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ موجودہ صوبے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اتنے بڑے ہو چکے ہیں کہ حکومت عام آدمی تک مؤثر طور پر نہیں پہنچ سکتی۔ نئے صوبے انتظامی بوجھ کم کر سکتے ہیں، نمائندگی بہتر بنا سکتے ہیں اور ریاستی اداروں کو شہریوں کے قریب لا سکتے ہیں۔ یہ دلیل اپنی جگہ وزن رکھتی ہے، لیکن ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے:
کیا نئے صوبے واقعی اقتدار کو عام آدمی کے قریب لے آئیں گے؟ یا ہم صرف ایک بڑے صوبائی دارالحکومت کی جگہ دو یا تین چھوٹے دارالحکومت بنا دیں گے؟ اگر اختیار آخرکار وہیں رہے جہاں پہلے تھا تو نقشہ بدلنے سے شہری کی زندگی کتنی بدلے گی؟ اصل مسئلہ صوبے کا سائز ہے یا اقتدار کا فاصلہ؟
ایک عام پاکستانی کے لیے ریاست کا مطلب اسلام آباد یا لاہور، کراچی، پشاور یا کوئٹہ کی بڑی عمارتیں نہیں ہیں۔ اس کے لیے ریاست اس وقت سامنے آتی ہے جب اسے بچے کا اسکول چاہیے، بیمار ماں کے لیے اسپتال چاہیے، گلی میں پانی کھڑا ہو، سیوریج بند ہو، پولیس سے مدد درکار ہو، زمین کا مسئلہ ہو، کاروبار کے لیے اجازت چاہیے یا کسی سرکاری دفتر میں اس کا کام برسوں سے رکا ہوا ہو۔
اس کے لیے ریاست وہ ادارہ ہے جس سے وہ اپنی روزمرہ زندگی میں واسطہ رکھتا ہے۔ تو پھر سوال یہ ہونا چاہیے:
کیا فیصلہ کرنے والا ادارہ اس شہری کے قریب ہے؟
اگر نہیں، تو مسئلہ صرف صوبے کا بڑا ہونا نہیں مسئلہ اقتدار کا شہری سے دور ہونا ہے۔
ریاست آخر بنی کس لیے تھی؟
سیاسی فلسفے کی صدیوں پر محیط بحث دراصل ایک بنیادی سوال کے گرد گھومتی رہی ہے: انسان نے ریاست کو اختیار کیوں دیا؟
ہابس Hobbs کے نزدیک ریاست انسان کو انتشار اور عدم تحفظ سے بچانے کے لیے ضروری تھی۔ لاک John Locke نے فرد کے بنیادی حقوق کو ریاستی اختیار کی بنیاد قرار دیا۔ فرانسیسی سیاسی مفکر روسو Rousseau نے سیاسی اقتدار کو عوامی ارادے سے جوڑا۔ بعد میں جدید سیاسی فکرنے اس بحث کو مزید آگے بڑھایا اور یہ سوال اٹھایا کہ ریاست صرف امن و امان قائم کرنے والی قوت نہیں، بلکہ اسے شہریوں کے لیے انصاف، مواقع اور سیاسی شرکت بھی یقینی بنانی چاہیے۔
ان نظریات میں اختلاف بہت ہے، مگر ایک بنیادی بات مشترک ہے: ریاست کا جواز شہری سے الگ نہیں۔
شہری ریاست کو اپنی آزادیوں کا ایک حصہ دیتا ہے، قانون کی پابندی قبول کرتا ہے، ٹیکس ادا کرتا ہے اور اجتماعی نظم کو تسلیم کرتا ہے۔ اس کے بدلے میں وہ تحفظ، انصاف، بنیادی سہولتیں، مساوی مواقع اور اپنے اجتماعی فیصلوں میں شرکت کی توقع رکھتا ہے۔ یہی دراصل سماجی معاہدہ ہے۔
لیکن اگر ریاست شہری سے ذمہ داریاں تو پوری کروائے لیکن اختیار، وسائل اور فیصلے اس سے دور رکھے تو سماجی معاہدے کا توازن بگڑ جاتا ہے اور میری رائے میں شاید........
