Muhabbat Ki Zuban
زندگی آج مجھے ایک ایسے موڑ پر لے آئی ہے جہاں آغاز اور انجام ایک دوسرے سے ہم آغوش دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی میرے والدین میری ضروریات خاموشی سے پوری کرتے تھے، آج میرے بچے وہی محبت، اسی خاموشی اور اسی فراخ دلی کے ساتھ میرے لیے کرتے ہیں۔ بچپن اور جوانی میں میرے والدین میری ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔ آج بڑھاپے میں یہی کردار میرے بچوں نے سنبھال لیا ہے۔ وہ میری ضرورت کی ہر چیز خاموشی سے مہیا کر دیتے ہیں۔ کبھی حساب نہیں مانگتے، کبھی احسان نہیں جتاتے، کبھی بدلے میں کسی چیز کی توقع نہیں رکھتے۔
ان کی اس محبت اور فیاضی نے مجھے وہ زندگی گزارنے کا موقع دیا ہے جو شاید ان کے بغیر ممکن نہ ہوتی۔ میں ان کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور کبھی بھی یہ نہیں چاہتا کہ میرے کسی لفظ یا رویّے سے ناشکری یا احسان فراموشی کا گمان بھی ہو۔
اس کے باوجود، مجھے ہمیشہ محسوس ہوا ہے کہ جہاں محبت اور پیسہ ایک ہی رشتے میں جمع ہو جائیں، وہاں الفاظ اپنی پوری معنویت کھو دیتے ہیں۔ انسان جو محسوس کرتا ہے، وہ اکثر کہہ نہیں پاتا۔
شاید اس لیے کہ پیسہ صرف پیسہ نہیں ہوتا۔
ہم اسے ایک ذریعہ، ایک علامت یا ایک وسیلہ کہتے ہیں، لیکن حقیقت........
